BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 23:32 GMT 04:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ریفرنڈم کی بجائے امداد پر توجہ دیں‘
برما
گزشتہ روز ایک امریکی سفارتکار نے کہا تھا کہ برما میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ ہو سکتی ہے
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے برما کی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئینی ریفرنڈم کرانے کی بجائے سمندری طوفان سے متاثرہ افراد میں امداد تقسیم کرنے پر توجہ دے۔

ادھر ایک سرکاری اخبار کے مطابق برما نے کہا ہے کہ اسے غیر ملکیوں کی نہیں بلکہ غیر ملکی امداد کی ضرورت ہے اور وہ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں انسانی امداد کے شعبے کے سربراہ جان ہولمز نے کہا ہے کہ برما میں صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے اور یہ کہ ویزے کی پابندیاں نرم کرنے اور امداد کی ترسیل پر لگی پابندیاں اٹھانے میں برما کے حکام کی سست روی سے انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔

برما میں ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک 22980 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ طوفان کے بعد اب تک اکتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔

دریں اثناء امریکہ نے برما میں اجازت کے بغیر فضا سے امدادی اشیاء زمین پر پھینکے کا خیال مسترد کر دیا۔ اس سے قبل امریکی جہاں امدادی سامان لے کر برما گئے تھے لیکن انہیں وہاں اترنے کی اجازت نہیں ملی۔

تاہم برما میں کچھ امدادی سامان پہنچا ہے لیکن کئی ٹن امدادی اشیاء اور درجنوں افراد پر مشتمل غیر ملکی عملے کو ابھی تک برما آنے کی اجازت نہیں ملی۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کے سربراہ جان ہولمز کا کہنا ہے کہ انہیں برما کے رویے سے بہت مایوسی ہوئی ہے

جمعرات کو عالمی ادارۂ خوراک کی چار پروازیں امدادی سامان لے کر رنگون پہنچیں۔ ریڈ کراس کی طرف سے امداد برما پہنچ گئی ہے۔

لیکن اقوامِ متحدہ کے چالیس ماہرین ابھی تک برما کے ویزے کے انتظار میں بینکاک بیٹھے ہیں۔

ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے کہا ہے کہ برما کے حکمران سنیچر کو آئینی ریفرنڈم کرانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور امدادی کام صرف ان علاقوں میں ہو رہا ہے جو سمندری طوفان سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ باقی مقامات پر توجہ کم ہے۔

جان ہومز نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برما میں امدادی اشیاء پہنچانے میں پیش رفت تو ہوئی ہے لیکن یہ بہت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ اگر برما میں امداد فوری طور پر نہ پہنچائی گئی تو گزشتہ سنیچر کو برما میں آنے والی آفت سے بھی بڑا المیہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔‘

برما میں تباہی: آپ کی تصاویرآپ کی تصاویر
رنگون کے اطراف تباہی کا حال
طوفان طوفان سے تباہی
بنگلہ دیش میں طوفان اور تباہی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد