’ریفرنڈم کی بجائے امداد پر توجہ دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے برما کی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئینی ریفرنڈم کرانے کی بجائے سمندری طوفان سے متاثرہ افراد میں امداد تقسیم کرنے پر توجہ دے۔ ادھر ایک سرکاری اخبار کے مطابق برما نے کہا ہے کہ اسے غیر ملکیوں کی نہیں بلکہ غیر ملکی امداد کی ضرورت ہے اور وہ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادھر اقوامِ متحدہ میں انسانی امداد کے شعبے کے سربراہ جان ہولمز نے کہا ہے کہ برما میں صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے اور یہ کہ ویزے کی پابندیاں نرم کرنے اور امداد کی ترسیل پر لگی پابندیاں اٹھانے میں برما کے حکام کی سست روی سے انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ برما میں ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک 22980 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ طوفان کے بعد اب تک اکتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ دریں اثناء امریکہ نے برما میں اجازت کے بغیر فضا سے امدادی اشیاء زمین پر پھینکے کا خیال مسترد کر دیا۔ اس سے قبل امریکی جہاں امدادی سامان لے کر برما گئے تھے لیکن انہیں وہاں اترنے کی اجازت نہیں ملی۔ تاہم برما میں کچھ امدادی سامان پہنچا ہے لیکن کئی ٹن امدادی اشیاء اور درجنوں افراد پر مشتمل غیر ملکی عملے کو ابھی تک برما آنے کی اجازت نہیں ملی۔
جمعرات کو عالمی ادارۂ خوراک کی چار پروازیں امدادی سامان لے کر رنگون پہنچیں۔ ریڈ کراس کی طرف سے امداد برما پہنچ گئی ہے۔ لیکن اقوامِ متحدہ کے چالیس ماہرین ابھی تک برما کے ویزے کے انتظار میں بینکاک بیٹھے ہیں۔ ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے کہا ہے کہ برما کے حکمران سنیچر کو آئینی ریفرنڈم کرانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور امدادی کام صرف ان علاقوں میں ہو رہا ہے جو سمندری طوفان سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ باقی مقامات پر توجہ کم ہے۔ جان ہومز نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برما میں امدادی اشیاء پہنچانے میں پیش رفت تو ہوئی ہے لیکن یہ بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ اگر برما میں امداد فوری طور پر نہ پہنچائی گئی تو گزشتہ سنیچر کو برما میں آنے والی آفت سے بھی بڑا المیہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔‘ |
اسی بارے میں یو این کی امداد برما پہنچ گئی08 May, 2008 | آس پاس برما:’ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ‘ 07 May, 2008 | آس پاس برما فوری امداد کی ضرورت07 May, 2008 | آس پاس 22000 ہلاک، ہولناک مناظر، الم ناک حالات06 May, 2008 | آس پاس برما: ہلاکتیں بائیس ہزار تک پہنچ گئیں05 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||