برما: امداد بحال کرنے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خوراک کے عالمی پروگرام نے کہا ہے کہ وہ سنیچر کو خوراک کے دو جہاز برما روانہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے کہا کہ وہ برما کے حکام سے اس امداد کی ترسیل کے بارے میں مذاکرات جاری رکھیں گے جو برما پہنچنے پرفوج کی طرف سے قبضہ میں لے گئی تھی۔ اس سے پہلے خورال کے عالمی پروگرام نے اپنے امدادی طیاروں پر برما کے فوجی حکام کے قبضے کے بعد امداد روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے کہا تھا کہ برما کے حکام نے طوفان کے متاثرین کے لیے بھیجا جانے والا کئی ٹن امدادی سامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ خوراک کے عالمی پروگرام نے کہا تھا کہ ان کے پاس مسئلے کے حل تک امداد روکنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کر چکی ہے کہ طوفان سے کم سے کم پندرہ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہزاروں لوگوں کے بے گھر ہونے اور بیماریوں کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے برما کی فوج سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آئینی ریفرنڈم کرانے کی بجائے سمندری طوفان سے متاثرہ افراد میں امداد تقسیم کرنے پر توجہ دے۔ ادھر ایک سرکاری اخبار کے مطابق برما نے کہا ہے کہ اسے غیر ملکیوں کی نہیں بلکہ غیر ملکی امداد کی ضرورت ہے اور وہ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادھر اقوامِ متحدہ میں انسانی امداد کے شعبے کے سربراہ جان ہولمز نے کہا ہے کہ برما میں صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے اور یہ کہ ویزے کی پابندیاں نرم کرنے اور امداد کی ترسیل پر لگی پابندیاں اٹھانے میں برما کے حکام کی سست روی سے انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ برما میں ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک 22980 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ طوفان کے بعد اب تک اکتالیس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ دریں اثناء امریکہ نے برما میں اجازت کے بغیر فضا سے امدادی اشیاء زمین پر پھینکے کا خیال مسترد کر دیا۔ اس سے قبل امریکی جہاں امدادی سامان لے کر برما گئے تھے لیکن انہیں وہاں اترنے کی اجازت نہیں ملی۔ جمعرات کو عالمی ادارۂ خوراک کی چار پروازیں امدادی سامان لے کر رنگون پہنچیں تھیں۔ ایک بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے کہا ہے کہ برما کے حکمران سنیچر کو آئینی ریفرنڈم کرانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور امدادی کام صرف ان علاقوں میں ہو رہا ہے جو سمندری طوفان سے شدید متاثر ہوئے ہیں، باقی مقامات پر توجہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ اگر برما میں امداد فوری طور پر نہ پہنچائی گئی تو گزشتہ سنیچر کو برما میں آنے والی آفت سے بھی بڑا المیہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔‘ |
اسی بارے میں ’ریفرنڈم کی بجائے امداد پر توجہ دیں‘08 May, 2008 | آس پاس یو این کی امداد برما پہنچ گئی08 May, 2008 | آس پاس برما:’ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ‘ 07 May, 2008 | آس پاس برما فوری امداد کی ضرورت07 May, 2008 | آس پاس 22000 ہلاک، ہولناک مناظر، الم ناک حالات06 May, 2008 | آس پاس برما: ہلاکتیں بائیس ہزار تک پہنچ گئیں05 May, 2008 | آس پاس ’جنتا امدادی کاموں میں رکاوٹ‘05 May, 2008 | آس پاس برما: طوفان سے سینکڑوں ہلاک04 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||