چین اور برما: تباہی پر مختلف رد عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کے صدمے سے دوچار دو ایشیائی ممالک، جہاں لاکھوں لوگ بے گھر اور بے آسرا ہیں۔ دو حکومتیں ایک فوجیوں کی اور دوسری پر کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی ہے۔ دونوں ممالک روایتی طور پر بیرونی مداخلت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن جس طرح یہ دونوں ممالک اپنے اوپر پڑی آفت سے نمٹ رہے ہیں اس میں کچھ بھی مشترک نہیں۔ برما کی حکومت تین مئی کے بعد سے جب وہاں طوفان نے تباہی مچائی تھی غیر ملکیوں کو امدادی کردار کرنے کی اجازت دینے میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے جبکہ وہ خود کوئی مناسب قدم نہیں لے سکی۔ برما کی حکومت نے شروع سے ہی بہت کم ماہرین کو اجازت دی کہ وہ وہاں جا کر تباہی کا اندازہ لگاتے اور متاثرہ علاقوں تک امداد کی فراہمی کے لیے راستہ ہموار کرتے۔
امداد جب برما پہنچی بھی تو اسے بادلنخواستہ قبول کیا گیا اور کہا گیا کہ برما کی فوج حالات سے نمٹ سکتی اور غیر ملکی امدادی کارکن قبول نہیں۔ حالانکہ لگتا ہے کہ برما کی فوج اتنی بڑے پیمانے پر تباہی سےنمٹنے کی صلاحیت رکھتی۔ برما میں زیرِ آب علاقوں کے علاوہ پورے ملک میں سنیچر کو پروگرام کے مطابق آئین میں تبدیلی کے لیے ریفرنڈم کروایا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ برما میں جرنیلوں کے لیے حکومت پر گرفت مضبوط کرنا اپنے شہریوں کی مشکلات دور کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ اس کے برعکس چین کی حکومت کا رد عمل لچکدار تھا اور انہوں نے زلزلے کی تباہی سے نمٹنے میں مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ زلزلے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر وزیر اعظم متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے اور سرکاری ٹیلی ویژن پر خصوصی نشریات دکھائی جانے لگیں۔ غیر ملکی صحافی دنیا کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے ہیں۔
چین نے اولمپک مشعل کے ریلے کے حوالے جاری تقریبات بھی کم کر دی ہیں اور ہر روز زلزلے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ چین نے بیرونی امداد کی پیشکش پر خوش آمدید کہا ہے اور اگر اس نے بھی برما کی طرح غیر ملکی کارکنوں کو آنے سے روکا ہے تو اسی دوران ہزاروں چینی فوجی اور پولیس کے اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں کی طرف ٹرکوں اور جہازوں پر اور پیدل روانہ کیا ہے۔ وہ حالات سے نمٹنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کا اندازہ تو آنے والے چند ہفتوں میں ہی ہو سکے گا۔ چین میں نہیں کہا جا سکتا کہ غیر ملکی صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو آنے والے دنوں میں بھی برداشت کیا جائے یا نہیں؟ چین کی وزارت خارجہ نے ابھی سے کہنا شروع کر دیا ہے کہ غیر ملکی صحافیوں کو ان کی اپنی حفاظت کے پیش نظر متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ چین کے بارے میں کم سے کم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو بیرونی دنیا کو دکھانا چاہتی ہے کہ وہ حالات سے نمٹ سکتی ہے اور اپنے شہریوں کے لیے فکرمند ہے۔ | اسی بارے میں چین: وسیع امدادی آپریشن شروع13 May, 2008 | آس پاس چین زلزلہ: ہلاکتیں اندازوں سے زیادہ14 May, 2008 | آس پاس خراب موسم،امداد کی راہ میں حائل14 May, 2008 | آس پاس پابندیوں میں نرمی، امداد پہنچنا شروع12 May, 2008 | آس پاس برما:طوفان کے بعد بحران کا سامنا11 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||