BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 00:03 GMT 05:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خراب موسم،امداد کی راہ میں حائل
چین میں زلزلہ
ینگزیو میں دس ہزار میں سے صرف دو ہزار افراد ہی زندہ پائے گئے ہیں
چین کے جنوب مغربی حصے میں پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد علاقے میں بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور مواصلات کے نظام میں خرابی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تاہم امدادی ٹیمیں مسلسل کوشش کے بعد زلزلے کے مرکز پر واقع علاقے وینچوان میں پہنچ گئی ہیں جہاں ایک اندازے کے مطابق زلزلے کے بعد سے ساٹھ ہزار افراد لاپتہ ہیں۔

سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے زلزلے سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

زلزلے کے بعد وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا تھا اور اب چینی فوج کے پچاس ہزار جوان تباہ حال علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں تاہم امدادی ٹیموں کو راستوں کی بندش اور مواصلات کے نظام کی تباہی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اب بھی ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں

چینی فوج اور پولیس کے چند سو جوانوں پر مشتمل امدادی ٹیم ٹوٹی سڑکوں اور خراب موسم سےنبرد آزما ہونے کے بعد منگل کو رات گئے وینچوان پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ اس امدادی ٹیم نے اپنی ابتدائی کوششوں کے دوران پانچ سو لاشیں دریافت کی ہیں تاہم وہ تاحال زیادہ تباہ شدہ علاقے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔

زلزلے سے متاثرہ صوبے سیچوان کے نائب گورنر لی چینگیون کے مطابق ہلاک ہونے افراد میں سے7395 میانیانگ،2648 دیانگ، 959 صوبے کے دارالحکومت چینگڈو، 700 گوانگیانگ اور 161 ایبا تبتین کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ میانزہو کے قصبے میں 3000 افراد مارے گئے ہیں۔

چینی خبر رساں ادارے ژن ہوا کے مطابق وینچوان کے ایک قصبے ینگ زیو میں چینی فوج کے جوانوں نے تین سو زخمیوں کو بچا لیا ہے تاہم ایک سرکاری افسر کے مطابق دس ہزار کی آبادی والے اس قصبے میں صرف دو ہزار افراد ہی زندہ پائے گئے ہیں۔

سرکاری افسر ہی بیو کا کہنا تھا کہ’ وہ ملبے تلے لوگوں کی مدد کے لیے چیخ و پکار سنتے رہے لیکن کچھ کر نہ سکے کیونکہ علاقے میں کوئی ماہر امدادی ٹیم نہیں پہنچ سکی تھی‘۔

وینچوان میں امدادی ٹیم نے ابتدائی کوششوں کے دوران پانچ سو لاشیں دریافت کیں

خبر رساں ادارے ژن ہوا کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلے کے مرکز کے نزدیک واقع ایک اور شہر میانیانگ میں اندازاً اٹھارہ ہزار افراد ملبے تلے دفن ہیں جبکہ ایک اور قصبےمیانز ہو میں کم از کم چار ہزار آٹھ سو افراد پھنسے ہوئے ہیں اور زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے مٹی کے تودوں نے قصبے تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔

بی بی سی کے کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ چینی فوج تیز رفتاری سے حرکت میں آنے کے حوالے سے کافی اچھا ریکارڈ رکھتی ہے اور اس لیے وہ جلد امدادی کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے خبریں بہت تیزی سے آ رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ چینی سرکاری میڈیا اتنی تندہی سے کام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد