خراب موسم،امداد کی راہ میں حائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے جنوب مغربی حصے میں پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد علاقے میں بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور مواصلات کے نظام میں خرابی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم امدادی ٹیمیں مسلسل کوشش کے بعد زلزلے کے مرکز پر واقع علاقے وینچوان میں پہنچ گئی ہیں جہاں ایک اندازے کے مطابق زلزلے کے بعد سے ساٹھ ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے زلزلے سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ زلزلے کے بعد وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا تھا اور اب چینی فوج کے پچاس ہزار جوان تباہ حال علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں تاہم امدادی ٹیموں کو راستوں کی بندش اور مواصلات کے نظام کی تباہی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چینی فوج اور پولیس کے چند سو جوانوں پر مشتمل امدادی ٹیم ٹوٹی سڑکوں اور خراب موسم سےنبرد آزما ہونے کے بعد منگل کو رات گئے وینچوان پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ اس امدادی ٹیم نے اپنی ابتدائی کوششوں کے دوران پانچ سو لاشیں دریافت کی ہیں تاہم وہ تاحال زیادہ تباہ شدہ علاقے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ صوبے سیچوان کے نائب گورنر لی چینگیون کے مطابق ہلاک ہونے افراد میں سے7395 میانیانگ،2648 دیانگ، 959 صوبے کے دارالحکومت چینگڈو، 700 گوانگیانگ اور 161 ایبا تبتین کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ میانزہو کے قصبے میں 3000 افراد مارے گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے ژن ہوا کے مطابق وینچوان کے ایک قصبے ینگ زیو میں چینی فوج کے جوانوں نے تین سو زخمیوں کو بچا لیا ہے تاہم ایک سرکاری افسر کے مطابق دس ہزار کی آبادی والے اس قصبے میں صرف دو ہزار افراد ہی زندہ پائے گئے ہیں۔ سرکاری افسر ہی بیو کا کہنا تھا کہ’ وہ ملبے تلے لوگوں کی مدد کے لیے چیخ و پکار سنتے رہے لیکن کچھ کر نہ سکے کیونکہ علاقے میں کوئی ماہر امدادی ٹیم نہیں پہنچ سکی تھی‘۔
خبر رساں ادارے ژن ہوا کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلے کے مرکز کے نزدیک واقع ایک اور شہر میانیانگ میں اندازاً اٹھارہ ہزار افراد ملبے تلے دفن ہیں جبکہ ایک اور قصبےمیانز ہو میں کم از کم چار ہزار آٹھ سو افراد پھنسے ہوئے ہیں اور زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے مٹی کے تودوں نے قصبے تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔ بی بی سی کے کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ چینی فوج تیز رفتاری سے حرکت میں آنے کے حوالے سے کافی اچھا ریکارڈ رکھتی ہے اور اس لیے وہ جلد امدادی کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے خبریں بہت تیزی سے آ رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ چینی سرکاری میڈیا اتنی تندہی سے کام کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں چین: وسیع امدادی آپریشن شروع13 May, 2008 | آس پاس چین میں زلزلہ: 10,000 ہلاکتیں12 May, 2008 | آس پاس جنوب مغربی چین میں زلزلہ12 May, 2008 | آس پاس مغربی انڈونیشیا میں شدید زلزلہ20 February, 2008 | آس پاس یونان: زلزلے کے شدید جھٹکے06 January, 2008 | آس پاس سماٹرا زلزلہ: نو افراد ہلاک 13 September, 2007 | آس پاس پیرو:پانچ سوہلاک، تین روزہ سوگ17 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||