BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 August, 2007, 06:29 GMT 11:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیرو:پانچ سوہلاک، تین روزہ سوگ
کچھ علاقوں میں اسّی فیصد گھر تباہ ہوچکے ہیں
جنوبی امریکہ کے ملک پیرو کے ساحلی علاقوں میں آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے افراد کی تعداد پانچ سو ہوگئی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اورحکومت نے اس تباہی پر تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

پیرو کے صدر ایلن گارشیا نے سوگ کے موقع پر تمام سرکاری دفاتر،سکول، فوجی تنصیبات اور میوزیم بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل صدر نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان کے ساتھ اپنی کابینہ کے ارکان کو متاثرہ علاقے میں جانے کا حکم دیا تھا۔

بدھ کی شام آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں عروج پر ہیں اور امدادی کارکن تاحال دارالحکومت لیما سے دو سو کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع پسکو اور اس کے قریبی دیہات میں ملبے تلے تلے دبی لاشیں نکال رہے ہیں۔

پِسکو نامی شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ ان کے ساحلی شہر کا ستر فیصد حصہ کھنڈر بن گیا ہے۔ ’ میں اس تباہی کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں‘۔میئر نے ایک ریڈیو انٹرویو میں بتایا ہے کہ سڑکوں پر درجنوں لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ یہاں بجلی نہیں، پانی نہیں اور ذرائع آمد ورفت بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر گھر تباہ ہو چکے ہیں، گرجے، ہوٹل، دکانیں، سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کی نائب ریلیف کوارڈینیٹر مارگریٹا والسٹورم کے مطابق علاقے میں بجلی اور مواصلات کا نظام معطل ہے اور کچھ علاقوں میں اسّی فیصد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ مارگریٹا کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں ’مکمل تباہی‘ ہوئی ہے۔

پسکو شہر کا ستر فیصد حصہ کھنڈر بن گیا ہے۔

امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت آٹھ تھی اور زلزلے کا مرکز لیما کے جنوب مشرق میں بحرالکاہل کی تقریباً ایک سو پینتالیس کلو میٹر گہرائی میں تھا۔ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام پونے سات اور برطانوی وقت کے مطابق بدھ کی رات پونے بارہ بجے کے قریب آیا۔

زلزلے کا زیادہ اثر ساحلی صوبے ایکا میں محسوس کیا گیا جہاں زلزلے سے نہ صرف متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں بلکہ بجلی اور مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔

زلزلے کی ایک عینی شاہد لیما کی ایک رہائشی برانون کا کہنا تھاکہ ’عام طور پر اگر آپ گھر سے باہر ہوں تو زلزلے کا اثر محسوس نہیں ہوتا لیکن اس بار فٹ پاتھ تک ہل رہا تھا۔ چنانچہ میں دوڑ کر باغ میں چلی گئی۔ وہاں بھی میرے پیروں تلے زمین ہل رہی تھی‘۔

برانون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’ سب سے خوفناک چیز زلزلے کی آواز تھی۔ اوپر بجلی چمک رہی تھی اور نیچے سے آواز۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم کسی جنگ کے مناظر والی فلم کے سیٹ پر آ گئے ہوں‘۔

یاد رہے کہ 1970 میں پیرو کے پہاڑی علاقے میں آنے والے سات اعشاریہ نو شدت کے زلزلے کے نتیجے میں یونگے نامی قصبہ مٹی کے تودوں تلے دفن ہوگیا تھا۔ اس حادثے میں چھیاسٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
چین میں زلزلہ، دو ہلاک
03 June, 2007 | آس پاس
تائیوان میں شدید زلزلہ
26 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد