BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیرو زلزلہ: لاشوں کی تلاش جاری
محکمۂ شہری دفاع کے مطابق 827 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں
جنوبی امریکہ کے ملک پیرو کے ساحلی علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کو ہلاک کر دینے والے تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں عروج پر ہیں۔

پِسکو نامی شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ ان کے ساحلی شہر کا ستر فیصد حصہ کھنڈر بن گیا ہے۔ ’ میں اس تباہی کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔‘

امدادی ٹیمیں دارالحکومت لیما کے جنوب مغربی شہروں پِسکو، ایکا اور دیگر دیہی قصبوں تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن علاقے میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اور بجالی کا نظام درہم برہم ہے۔


جمعرات تک مرنے والوں کی تعداد تین سو سینتیس تک پہنچ چکی ہے لیکن خدشہ ہے کہ اس میں اضافہ ہو گا۔ محکمۂ شہری دفاع کے مطابق اس زلزلے سے 827 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات
زلزے کی جھٹکے جمعرات کی صبح تک جاری تھے جن میں سے سب سے زیادہ شدت کا جھٹکا چھ اعشاریہ تین کا تھا۔

پِسکو کے میئر کا کہنا ہے کہ ان کے شہر کے ایک گرجے میں عبادت میں مصروف دو سو افراد ابھی تک ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

پیرو کے ساحلی علاقےایکا میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے

چنچا نامی قصبے کے ہسپتال کے باہر تقریباً دو سو افراد انتظار کر رہے ہیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ ہسپتال کی عمارت بھی گِر جائے گی۔

پِسکو کے میئر نے ایک ریڈیو انٹرویو میں بتایا ہے کہ سڑکوں پر درجنوں لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ یہاں بجلی نہیں، پانی نہیں اور ذرائع آمد ورفت بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر گھر تباہ ہو چکے ہیں، گرجے، ہوٹل، دکانیں، سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔‘

صدر ایلن گاشیا نے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور اپنی کابینہ کے ارکان کو متاثرے علاقے میں جانے کا حکم دیا ہے۔

طبی عملے کے ارکان اپنی ہڑتال ختم کر کے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے مختلف ٹیموں کی شکل میں ملک کے جنوب مغربی علاقے کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت آٹھ تھی اور پیرو کے محکمۂ شہری دفاع کے مطابق ہلاک شدگان میں سے ایک کے سوا سب کا تعلق ساحلی صوبے ایکا سے ہے۔ زلزلے کا مرکز لیما کے جنوب مشرق میں بحرالکاہل کی تقریباً ایک سو پینتالیس کلو میٹر گہرائی میں تھا۔

زلزلہ مقامی وقت کے مطابق بدھ کی شام پونے سات اور برطانوی وقت کے مطابق بدھ کی رات پونے بارہ بجے کے قریب آیا۔اس کے جھٹکے پیرو کے دارالحکومت لیما میں بھی محسوس کیے گئے جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔


تاہم زلزلے کا زیادہ اثر ساحلی صوبے ایکا میں محسوس کیا گیا جہاں زلزلے سے نہ صرف متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں بلکہ بجلی اور مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔

زلزلے کی ایک عینی شاہد لیما کی ایک رہائشی برانون کا کہنا تھاکہ ’عام طور پر اگر آپ گھر سے باہر ہوں تو زلزلے کا اثر محسوس نہیں ہوتا لیکن اس بار فٹ پاتھ تک ہل رہا تھا۔ چنانچہ میں دوڑ کر باغ میں چلی گئی۔ وہاں بھی میرے پیروں تلے زمین ہل رہی تھی‘۔

برانون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’ سب سے خوفناک چیز زلزلے کی آواز تھی۔ اوپر بجلی چمک رہی تھی اور نیچے سے آواز۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم کسی جنگ کے مناظر والی فلم کے سیٹ پر آ گئے ہوں‘۔

اس موقع پر پیرو کے صدر ایلن گارشیا کا کہنا تھا کہ وہ تین وزراء کو متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ زلزلے سے اتنی زیادہ تباہی نہیں ہوئی ہے۔

ایکا اور چنچا کے علاقوں کے مضافات میں واقع کئی مکانات منہدم ہو گئے ہیں

صدر نے لیما میں پولیس کو علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ عمارتوں کے غیر محفوظ ہونے کے خدشے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لیما اور اس کے مضافات میں واقع غریب افراد کی جھونپڑیوں سے اب تک تباہی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ تاہم شہر میں جہاں ایک تہائی آبادی رہائش پذیر ہے، وہاں شاید ہی کوئی اتنے بڑے سانحے کو نظر انداز کر سکے۔

لیما کی ایک رہائشی بیرینس نے بتایا:’ انہیں زلزلے کے انتہائی جھٹکے محسوس ہوئے۔ کچھ لوگوں کو لگا جیسے دنیا ختم ہو گئی ہو۔ میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو ابھی تک پریشانی کی کیفیت سے باہر نہیں آئے ہیں‘۔

قبل ازاں ملک کے کئی نشیبی علاقوں پیرو، چلی، اکواڈور اور کولمبیا کو سونامی کی وارننگ کے بعد خالی کروالیا گیا تھا تاہم بعد میں اس وارننگ کو واپس لے لیا گیا۔

زلزلے کے خوف کے باعث لوگ گھروں سے باہر نکل آئے

پیرو کی نائب وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ چھ لاکھ پچاس ہزار نفوس پر مشتمل صوبے میں حالات بہت خراب ہیں۔ ایکا کے میئر ماریانو ناکی میئنتو کے مطابق انہوں نے حکومت سے ادویات، خیموں اور ہر قسم کی امداد کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے ایکا صوبے میں ایمرجنسی لگا دی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ٹی وی اطلاعات کے مطابق ساحلی صوبے ایکا میں چرچ میں سہ پہر کی دعا کے دوران چرچ کی عمارت گرنے سے 17 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

ریڈیو پرورگرام ’ڈل پیرو‘ میں فون کرنے والوں نے بتایا کہ ایکا اور چنچا کے علاقوں کے مضافات میں واقع کئی مکانات منہدم ہو گئے اور کئی شہروں میں بجلی بھی غائب ہے۔ زلزلے کے مرکز سے ساٹھ کلو میٹر مشرق میں واقع گاؤں پسکو بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے ایک فوٹو گرافر نے بتایا کہ چنچا میں ہسپتالوں کے فرش پر ہر طرف لاشیں پڑیں تھیں۔ امدادی کارکن ایکا پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایکا شہر کے شمال میں ایک پل بھی گر گیا ہے۔

اسی بارے میں
چین میں زلزلہ، دو ہلاک
03 June, 2007 | آس پاس
تائیوان میں شدید زلزلہ
26 December, 2006 | آس پاس
زلزلہ: 18 ہلاک، 1000 زخمی
23 October, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد