سانپوں سے زلزلے کی پیشنگوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سانپوں کی حرکت کا جائزہ لینے سے زلزلوں کی پیشنگوئی کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ چین کے جنوبی صوبے گوانژی کے نانِنگ ایرتھکویک سنٹر کے سائنسدان کہتے ہیں کہ سانپوں میں یہ صلاحیت ہے کہ انہیں 120 کلومیٹر دور تک یا پانچ دن قبل تک زلزلے کا احساس ہو جاتا ہے۔ جب سانپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ زلزلہ آنے والا ہے تو ان کی حرکت میں پریشانی آجاتی ہے اور اکثر وہ دور بھاگنے کی کوشش میں دیواروں سے ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں۔ نانِنگ ایرتھکویک سنٹر کے ڈائریکٹر ژیانگ وئے سونگ نے بتایا ہے کہ ’زلزلے سے پہلے سانپ اپنے بِل چھوڑدیں گے چاہے کتنی بھی سردی کیوں نہ ہو۔ اور اگر زیادہ شدت کا زلزلہ آنے والا ہو تو سانپ نکلنے کی گھبرا ہٹ میں دیواروں سے جا کر ٹکراتے ہیں۔‘ نانِنگ ایرتھکویک سنٹر میں سائنسدان سانپوں کے فارمز کی سی سی ٹی وی کے ذریعے چوبیس گھنٹے جائزہ لیتے ہیں۔ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ژیانگ کے مطابق ایسے کیمراز لگانے سے سائنسدانوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ سانپوں کی حرکت کا زلزلے سے کیا تعلق ہے اور یوں زلزلوں کی پیشنگوئی کرنی ممکن ہو گئی ہے۔ چین میں اکثر زلزلے آتے ہیں۔ سنہ 1976 میں تنگشان کا شہر زلزلے میں تباہ ہوگیا تھا جس میں ڈھائی لاکھ افراد مارے گئے تھے۔ نانِنگ چین کے ان بارہ شہروں میں شامل ہے جن میں چوبیس گھنٹے زمین اور ماحول کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں پولیس نے سپیروں کا مظاہرہ روک دیا11 December, 2004 | آس پاس سپیرے تو پابند لیکن چڑیا گھر آزاد13 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||