پولیس نے سپیروں کا مظاہرہ روک دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے مشرقی ریاست اڑیسہ میں پولیس نے سانپوں کو ریاستی ایوان میں چھوڑ دینے کی سازش روک دی۔ سپیروں نے اپنے پیشے پر حکومت کے پابندی لگانے کے بعد ریساتی دارالحکومت بھوبانیشور احتجاجاً چڑھائی کردی۔ وائلڈ لائف کے آفسروں نے پچھلے چند مہینوں میں کئی سو سانپوں کو قبضہ میں لے کے جنگلوں میں چھڑوا دیا تھا۔ سپیرے چاہتے ہیں کہ جب تک کہ کوئی اور روزگار نہ مل جائے تب تک وہ اسی پیشے سے وابستہ رہیں۔ اس مظاہرے میں کئی سو سپیرے شامل تھےجنکو پولیس نے ریاستی ایوان سے سو میٹر پہلے روک دیا۔ سپیروں کے ایک وفد نے وزیرِ اعلیٰ ناوین پٹنائک سے ملاقات کرکے اپنے مطالبوں کی ایک فہرست پیش کی۔ ان مطالبوں میں یہ بھی تھا کہ ان کے خلاف کار روائی فوراً روک دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی متابدل روزگار کا بندوبست ہونے تک انہیں یہ پیشہ جاری رکھنے دیا جائے۔ یہ مظاہرین زیادہ تر بھوبانیشور کے گرد و نواح پدماکیشارپور گاؤں کے سپیرے تھے۔ وائلڈ لائف آفسران اور کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ سپیرے سانپوں کو اذیت دیتے ہیں جبکہ سپیرے اس الزام کے منکر ہیں۔ ایک غیر حکومتی تنظیم دی پیپلز رائٹس فارم نے سپیروں کی حمایت میں کہا ہے کہ سانپ پکڑنے پر اس طرح عام پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ اس تنطیم کے ایک ممبر نے کہا ہے کہ دیگر ریاستوں کے سپیروں نے اڑیسہ کے دس ہزار سپیروں سے اپنی ہمدردی اور حمایت کا عہد کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||