ناگ دیوتا اور عالمی ادارہ صحت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارہ صحت نے بھارت میں سانپ کے ڈسنے سے ہونے والی بڑے پیمانے کی اموات پر تشویش ظاہر کی ہے اور ملک بھر میں سانپ کے متعلق پائے جانے والے اوہام کو ختم کرنے کےلیئے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ بھارت میں ہر سال پچاس ہزار افراد سانپ کے ڈسنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اِن میں بہت سے لوگ بے موت مارے جاتے ہیں کیونکہ بروقت طبّی امداد ملنے پر اُن کی جان بچ سکتی ہے۔ سالانہ بیس ہزار اموات صرف پھنیر اور کوڑیالے سانپ کے ڈسنے سے ہوتی ہیں۔ نیم حکیم قسم کے جوگی اور سپیرے بھارتی دیہات میں بڑا رعب داب رکھتے ہیں اور سانپ کاٹے کے اُلٹے سیدھے علاج بتاتے رہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ جس جوتے سے سانپ مارا گیا ہے اسے زمین میں گہرا دفن نہ کیا جائے تو مردہ سانپ پھر سے زندہ ہوکر آن دھمکتا ہےاور گھر کے ایک سے زیادہ افراد کو ڈس لیتا ہے۔ دیہات میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ مور سانپ کا دشمن ہے اور اس سے کہیں زیادہ طاقت رکھتا ہے چنانچہ سانپ کے کاٹے پر اگر مور کا پر رکھ دیا جائے تو کچھ عرصے بعد زخم مندمل ہو جاتا ہے اور زہر کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں۔ بعض لوگ قسم کھا کر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے مور کے پر سے اپنا علاج کیا تھا اور اب وہ بھلے چنگے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ انسان کو کاٹنے والا ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا۔ چنانچہ کسی بے ضرر سانپ کے کاٹے سے جو زخم پیدا ہوتا ہے وہ وقت کے ساتھ خود ہی مندمل ہو جاتا ہے لیکن سادہ لوح لوگ اسے مور پنکھی کا کمال سمجھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ ڈسنے کےسو واقعات میں سے ستّر بے ضرر ہوتے ہیں اور صرف تیس فیصد صورتوں میں سانپ زہریلا ہوتا ہے۔ اِن تیس فیصد واقعات میں بھی آدھے ایسے ہوتے ہیں جن میں سانپ محض کاٹتا ہے، اپنا زہر انسانی جسم میں داخل نہیں کر سکتا، گویا مجموعی طور پر سانپ ڈسنے کے پچاسی فیصد واقعات بے ضرر ہوتے ہیں، لیکن گاؤں کے جوگی کو اپنا ’کمال‘ دکھانے اور گاؤں والوں پر اپنی دھاک بٹھانے کا موقع مفت میں مل جاتا ہے۔ بھارت میں سانپ کو ایک دیوتا کا درجہ حاصل ہے اور بھارتی دیومالا ناگ ناگن کی کہانیوں سے اٹی پڑی ہے۔ جیسا کہ ماہرینِ بشریات بتاتے ہیں، قدیم انسان مظاہرِ فطرت میں اُن چیزوں کو تو پوجتا ہی تھا جو اسکی زندگی کو جاری و ساری رکھنے میں مدد کرتی تھیں مثلاً سورج، دھرتی، پانی اور گائے وغیرہ لیکن ساتھ ہی وہ اُن مظاہر کے سامنے بھی جھُک جاتا تھا اور انہیں قربانی پیش کرتا تھا جن سے زندگی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا مثلاً آگ، طوفان، سُور (جو فصلیں اُجاڑ دیتا تھا) اور سانپ جس کا کاٹا پانی نہ مانگتا تھا۔ چیچک کی وبا کو کالی ماتا کا قہر سمجھتے ہوئے اسکا نام ہی ’ماتا‘ رکھ دیا گیا تھا۔ سانپ کی جان لیوا حیثیت کے پیشِ نظر نہ صرف ناگ دیوتا کی پوجا شروع ہوئی بلکہ دیومالا میں ناگ ایک الگ اور مستقل باب کی شکل اختیار کر گیا۔
سمندر کو بِلو کر تخلیقی مکّھن برامد کرنے کے لیئے ایک جنّاتی سائیز کاسانپ ہی استعمال ہوا تھا۔ آج بھی شِوا کے ٹھکانے کو ناگ دیو ہی سجاتا ہے اور گن پتی کے معدے میں بھی ناگ کا ٹھکانا ہے۔ وشنو ایک ناگ کو اپنے بستر اور اپنی سواری کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ بھارتی دیو مالا سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ جب کالیا نام کے بدمعاش سانپ نے گاؤں بھر کی گائیوں کے ناک میں دم کر رکھا تھا تو کرشن جی نے اسے کیسا سیدھا کیا تھا اور پھر اُس کے پھن پر چڑھ کر رقص بھی کیا تھا۔ شیش ناگ کا انسانی شکل میں نمودار ہونا کئی داستانوں اور فلموں کا موضوع بن چکا ہے اور قدیم ہند میں لوگوں کو اس بات پر بھی پختہ یقین تھا کہ سورج گرہن سانپوں کی وجہ سے لگتا ہے۔ پانڈؤں کی نسل سے ایک جنگجُو پرِکْشت نامی ہوا تھا جو سانپوں سے اس قدر خوف زدہ رہتا تھا کہ اس نے روئے زمین سے سانپوں کی نسل ختم کرنے کا تہیہ کر لیا اور بڑے پیمانے پر سانپوں کا قتلِ عام شروع کردیا۔ روایت کے مطابق قتل ہونے والوں میں ایک ’ناگ شہزادہ‘ بھی تھا جسکی اولاد نے مشرقی بھارت میں پناہ لے لی اور آج ناگالینڈ میں رہنے والے اسی ناگ شہزادے کی اولاد ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عالمی ادارہء صحت والوں نے بھی یہ تمام قصّے کہانیاں سن رکھی ہیں کیونکہ انہوں نے دیومالا کو غلط ثابت کرنے کی بجائے ناگ پجاریوں اور جوگیوں کو سانپ کاٹے کے علاج کی جدید خطوط پہ ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ دیہاتوں میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مارگزیدہ افراد کی صحیح معنوں میں مدد کر سکیں۔ |
اسی بارے میں سانپ نے ڈاکخانے میں دہشت پھیلا دی26 July, 2006 | فن فنکار پولیس نے سپیروں کا مظاہرہ روک دیا11 December, 2004 | آس پاس جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے26 June, 2004 | صفحۂ اول زہر سے زہر کا علاج09.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||