جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برس کے اسرائیلی بچے کو صحن میں کھیلتے ہوئے ایک سانپ نے کاٹ لیا لیکن اس کی جان اس لیے بچ گئی کہ سانٹ کا تمام زہر بچے کی نیپی نے جذب کر لیا۔ بچے کے والدین کی نگاہ سانپ کے کاٹے کے نشان پر اس وقت پڑی جب وہ بچے کو نہلا رہے تھے۔ بچے کا کولہا بھی سوج چکا تھا۔ خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کا کہنا ہے کہ والدین بچے کے ہمراہ فوراً ہسپتال پہنچے جہاں ڈاکٹروں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ بچے کو تریاق کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم بچے کو ہسپتال ہی میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اسے زیر معائنہ رکھا جا سکے۔ ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر کوبی اساف نے اسرائیل ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچے کو زہریلے سانپ نے ڈسا لیکن خوش قسمتی سے سانپ نے اپنا زہر بچے کی نیپی میں داخل کر دیا جس کے سبب زہر بچے کے جسم میں داخل نہیں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||