سپیرے کس کے آگے بین بجائیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے ایک غیرمعروف علاقے میں جہیز میں سانپوں کی ایک جوڑی دینے کا رواج ہوا کرتا تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ بھاچوا کے چھوٹے سے شہر کے قریب واقع وادینگر نامی سپیروں کے اس گاؤں میں جہیز میں دیا جانے والا یہ منفرد تحفہ خاندان کی خوشحالی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہ سب اس وقت کی باتیں ہیں جب حکومت ہند نے جنگلی جانوروں کے تحفظ کے سلسلے میں انیس سو بہتر کے قانون پر سختی سے عمل درآمد شروع نہیں کیا تھا۔ گزشتہ چند سالوں میں سپیروں کو سخت معاشی مسائل کا سامناہے اور بیشتر سپیرے اب دیہاڑی پر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ بعض نے تو اپنے بال بڑھا لئے ہیں اور خیرات میں خواراک حاصل کرنے کے لئے صوفیوں کا سا لباس پہننا شروع کر دیا ہے۔ کرسن ناتھ سپیروں کے لیڈر ہیں اور ان کا تعلق ناتھ برادری سے ہے۔ یہ لوگ اصل میں راجستھان کے شہر جودھپور سے آئے تھے لیکن اب نو پیڑیوں سے گجرات میں آباد ہیں۔ کرسن ناتھ نے بتایا کہ ’سانپ پکڑنا اور لوگوں کو سانپوں کا تماشا دکھانا ہمارا واحد پیشہ تھا۔ لیکن جب سے حکومت نے قانون میں سختی کی ہے، ہماری روزی پر لات پڑ گئی ہے‘۔ کرسن ناتھ نے اپنی برادری کو سانپ پکڑنے سے منع کر رکھا ہے لیکن ان کے پاس اب بھی ایک کنگ کوبرا موجود ہے کیونکہ انہیں کبھی اپنی مہارت ثابت کرنے کی ضرورت ہی پیش آ سکتی ہے۔ کرسن ناتھ اب بھی برادری کے سردار کی طرح لباس پہنتے ہیں۔ وہ افسردہ لہجے میں کہتے ہیں کہ ’سانپ کو پالنا بہت مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر متبادل دن ہر مجھے اسے انڈے اور دودھ پلانا ہوتا ہے، اور میں اس کا متحمل نہیں ہوں‘۔ صرف وادینگر گاؤں میں ہی تین سو خاندان ایسے ہیں جو معاشی بحران کا شکار ہیں۔ کرسن ناتھ کا کہنا ہے کہ حکومت کو گاؤں کے لوگوں کی حالت سدھارنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||