BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 August, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپیرے تو پابند لیکن چڑیا گھر آزاد

 سپیرے، سانپ اور بین
سانپوں کو پالنا اور پکڑنا غیر قانونی ہے لیکن چڑیاگھروں میں سانپوں سمیت ہزاروں جانور قید ہيں
ایک وقت تھا جب ہندوستان کو سپیروں کا ملک سمجھا جاتا تھا۔ اکثر شہروں اور گاؤں کے بازاروں میں بین کی آواز سنائی دے جاتی تھی۔ جگہ جگہ سپیرے لوگوں کی بھیڑ جمع کیا کرتے تھے۔

وقت بدلا اور حالات میں بھی تبدلی آئی۔ حکومت نے جانوروں کے تحفظ کےلیئے سانپ پکڑنے اور پالنے پر پابندی عائد کر دی اور اب حالات کچھ اس طرح کے ہیں کہ سپیروں کا ملک اب سپیروں کے وجود کو ہی بھولتا جا رہا ہے۔

ملک میں موجود ہزاروں سپیرے اب بے روزگاری سے دوچار ہیں۔ ریاست ہریانہ کے کھیتاواس گاؤں جسے سپیروں کا گاؤں کہا جاتا ہے وہاں 1100 کی آبادی میں سپروں کی تعداد تقریبا پانچ سو ہے۔

بچیاں شادی کے قابل ہو گئی ہیں لیکن شادی کیسے ہو؟ ایک ماں کا سوال

اسی گاؤں کے ہمتا ناتھ باشندے جو پیش ور سپیرے ہیں اپنی برادری کے حالات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہماری برادری کے لیئے بین اور سانپ واحد روزگار تھا جس پر حکومت نے پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ سانپوں کو پالنا اور پکڑنا غیر قانونی ہے لیکن ان چڑیاگھروں پر کوئی سوال کیوں نہیں اٹھایا جاتا جہاں مختلف قسم کے ہزاروں جانور قید ہيں‘۔

دیگر سپیرے پرکاش ناتھ اپنے پرانے دنوں کو بڑی شدت سے یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ برادری کے لوگ ناچ گا کر رقم جمع کیا کرتے تھے اور اکثر لوگ خوش ہو کر اناج بھی دیا کرتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اناج کو فروخت کرنے سے بھی ہمیں کافی پیسے مل جاتے تھے لیکن اب پانچ دن میں بیس روپے ملتے ہیں، دس افراد کا خرچ کیسے چلے‘۔

سپیروں کے اس گاؤں ميں جہاں ایک طرف لوگ بے روزگاری سے پریشان ہیں وہیں دوسری جانب عورتیں اپنے بچوں کی شادی کے بارے میں بھی کافی فکرمند ہیں۔

ایسی ہی ایک ماں اپنے حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میری چار لڑکیاں ہیں اور سبھی شادی کے لائق ہو چکی ہیں لیکن اتنے پیسے ہی نہیں ہیں کہ انکی شادی کی جائے‘۔

’مجبوری میں درزی کا کام تو کر رہا ہوں لیکن آمدنی یہاں سے بھی نہیں ہو رہی ہے‘

کھیتاوا‎س گاؤں میں ان نوجوانوں کی حالات میں بھی کوئی بہتری نہیں آ سکی ہے حنہوں نے کچھ حد تک تعلیم بھی حاصل کی ہے۔

وجیندر ایسے ہی نوجوانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے درزی کے پیشے کو اپنایا تو ضرور لیکن وہاں بھی وہ پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجبوری میں درزی کا کام تو کر رہا ہوں لیکن آمدنی یہاں سے بھی نہیں ہو رہی ہے‘۔

کھیتاواس گاؤں کے یہ باشندے ان ہزاروں سپروں کی زندگی کی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جو اس وقت انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہيں۔ آج ان کے پاس وہ بین تو ضرور موجود ہے جس کی دھن پر سانپ جھوم جھوم کر ناچتے تھے اور سپیروں کی جھولی پیسوں اور اناج سے بھر جاتی تھی لیکن جانوروں کے تحفظ کے نام پر سانپوں کو پکڑنے اور پالنے پر لگائی گئی پابندی نے اس بین کو خاموش کرا دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سپیروں کی جھولی بھی اب خالی ہو گئی ہے۔

کوبراسانپ سے وعدہ
سانپ پٹاری میں مرے تو حقہ پانی بند
کرسن ناتھسپیروں کی بین
سپیروں کی روزی کو سانپ سونگھ گیا ہے۔
اسی بارے میں
زہر سے زہر کا علاج
09.05.2003 | صفحۂ اول
اسلام آباد کا جوگی
24.10.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد