چین میں زلزلہ: 10,000 ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں سات عشاریہ آٹھ کی شدت سے آئے شدید زلزلے کے نتیجے میں جنوب مغرب کے سیچوان صوبے میں کم از کم 10,000 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ ان میں سے پانچ ہزار سے زائد ہلاکتیں صرف ایک علاقے میں ہوئی ہیں۔ صوبے سیچوان کے علاقے دوجیانگ یان میں پرائمری سکول کی منہدم عمارت کے ملبے سے پچاس طلبہ کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق اس ملبے میں نو سو طلبہ دبے ہوئے ہیں۔ سِنہوا کے مطابق صوبے سیچوان کے ساتھ مواصلاتی نظام کٹ گیا ہے۔ چین کے صدر ہو جینتاؤ نے حکم دیا ہے کہ متاثر افراد کی مدد کے لیے تمام تر کوششیں کی جائیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیچوان کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں پر اسی فیصد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور ان میں تین سے پانچ ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے اور تقریباً دس ہزار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی محکمہ ارضیات نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ زلزلے کا مرکز سیچوان صوبے کے شہر چینگڈو سے بانوے کلو میٹر دور شمال مغرب میں تھا۔ اس صوبے کی آبادی تقریباً دس ملین ہے۔ زلزلےکے بعد علاقے میں ٹیلی فون کا نظام ٹھپ ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبے سیچوان کے علاقے دوجیانگ یان میں پرائمری سکول کی عمارت منہدم ہونے کے باعث نو سو طلبہ ملبے تلے دب گئے۔ دوجیانگ یانگ زلزلے کے مرکز سے سو کلومیٹر دور واقع ہے۔ چینی خبر رساں ایجنسی ژِنہوا کے مطابق پرائمری اسکول کی منہدم عمارت کے ملبے سے کچھ طلبہ نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ کچھ مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔
بڑی مشینری سے عمارت کے ملبے کو ہٹانے کے کام کو ان طلبہ کے والدین دیکھ رہے ہیں جبکہ مقامی لوگ حکام کی مدد کر رہے ہیں۔ دو طالبات کا کہنا ہے کہ وہ عمارت سے نکلنے میں کامیاب اس لیے ہوئیں کہ ثہ دوسرے بچوں سے زیادہ تیز بھاگی تھیں۔ زلزلے کے مرکز کے قریب واقع دوجیانگ یان شہر میں گھروں کے منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ چینگڈو کی عمارتوں میں شگاف پڑ گئے اور پانی کے پائپ پھٹ گئے اور علاقے کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ژِنہوا کے مطابق زلزلے کے چوالیس جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے لیے فوج اور ہیلی کاپٹر بھیج دیے گئے ہیں۔ بی بی سی کے کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ چینی فوج تیز رفتاری سے حرکت میں آنے کے حوالے سے کافی اچھا ریکارڈ رکھتی ہے اور اس لیے وہ جلد امدادی کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے خبریں بہت تیزی سے آ رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ چینی سرکاری میڈیا اتنی تندہی سے کام کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں مغربی انڈونیشیا میں شدید زلزلہ20 February, 2008 | آس پاس ’پیرو: متاثرہ علاقوں میں افراتفری‘19 August, 2007 | آس پاس پیرو زلزلہ: لاشوں کی تلاش جاری16 August, 2007 | آس پاس زلزلے سے جوہری پلانٹ کو نقصان17 July, 2007 | آس پاس جنوبی ایشیائی بحرانوں کا الزام حکومتوں پر10 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||