BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 May, 2008, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین: وسیع امدادی آپریشن شروع
چین
زلزلے سے بہت سے عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں
چین کے جنوب مغربی حصہ میں سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے زلزلے کے بعد وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس زلزلے میں بارہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر وینچوان میں امدادی کام کرنے کے لیے فوج پہنچ گئی ہے تاہم زلزلے کے بعد بارشوں کے باعث امدادی کام میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

سیچوان صوبے کے دیگر علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو نکالنے کی سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ زلزلے کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے اس بات خدشہ ظاہر کیا جا رہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

چینی وزیر اعظم وین جایا باو زلزلہ زدہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے امدادی کارکنوں سے کام کی رفتار تیز کرنے کو کہا ہے۔

زلزلے کے مرکز کے جنوب مشرق میں واقع دوجیناگ شہر میں مقامی شہریوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا جب تک ملبے تلے دبے ہوئے کسی ایک بھی فرد کو بچانے کی امید باقی ہے وہ سر توڑ کوششیں جاری رکھیں گے۔


صوبے سیچوان کے علاقے دوجیانگ یان میں پرائمری سکول کی منہدم عمارت کے ملبے سے پچاس طلبہ کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق اس ملبے میں نو سو طلبہ دبے ہوئے ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنوا کے مطابق صوبے سیچوان کے ساتھ مواصلاتی نظام کٹ گیا ہے۔ چین کے صدر ہو جینتاؤ نے حکم دیا ہے کہ متاثر افراد کی مدد کے لیے تمام تر کوششیں کی جائیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیچوان کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں پر اسی فیصد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور ان میں تین سے پانچ ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے اور تقریباً دس ہزار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی محکمہ ارضیات نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ زلزلے کا مرکز سیچوان صوبے کے شہر چینگڈو سے بانوے کلو میٹر دور شمال مغرب میں تھا۔ اس صوبے کی آبادی تقریباً دس ملین ہے۔ زلزلےکے بعد علاقے میں ٹیلی فون کا نظام ٹھپ ہو گیا ہے۔

دوجیانگ یان اسکول
پرائمری سکول کی عمارت کے ملبے سے طلبہ کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے

بڑی مشینری سے عمارت کے ملبے کو ہٹانے کے کام کو ان طلبہ کے والدین دیکھ رہے ہیں جبکہ مقامی لوگ حکام کی مدد کر رہے ہیں۔ دو طالبات کا کہنا ہے کہ وہ عمارت سے نکلنے میں کامیاب اس لیے ہوئیں کہ وہ دوسرے بچوں سے زیادہ تیز بھاگی تھیں۔

چینگڈو کی عمارتوں میں شگاف پڑ گئے اور پانی کے پائپ پھٹ گئے اور علاقے کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

ژِنہوا کے مطابق زلزلے کے چوالیس جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔

 خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیچوان کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں پر اسی فیصد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور ان میں تین سے پانچ ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے اور تقریباً دس ہزار افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں

متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے لیے فوج اور ہیلی کاپٹر بھیج دیے گئے ہیں۔ بی بی سی کے کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ چینی فوج تیز رفتاری سے حرکت میں آنے کے حوالے سے کافی اچھا ریکارڈ رکھتی ہے اور اس لیے وہ جلد امدادی کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے خبریں بہت تیزی سے آ رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ چینی سرکاری میڈیا اتنی تندہی سے کام کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد