BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین زلزلہ: ہلاکتیں اندازوں سے زیادہ
شی چوان کے دس ہزار آبادی کے قصبے سے صرف تئیس سو زندہ بچے ہیں
چینی ذرائع ابلاغ کےمطابق پیر کو آنے والے زلزلے میں قریباً پندرہ ہزار لوگ ہلاک جبکہ پچیس ہزار لوگ اب بھی ملبےمیں پھنسے ہوئے ہیں۔

پیر کے روز سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے زلزلے کا مرکز وینچوان کونٹی کا شی چوان صوبہ تھا۔

وینچوان کونٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ زلزلہ سے ہونے والی تباہی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔’علاقے کی تمام سڑکیں بند ہیں اور بچے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔‘

دس ہزار آبادی کے شی چوان قصبے سے ابتک صرف تئیس سو زندہ لوگوں کا پتہ چلایا جا سکا ہے ۔

چینی حکام نے زلزلے میں مرنے والی پندرہ ہزار ہے اور اس تعداد میں اضافہ یقینی بتایا جاتا ہے۔

چینی حکومت نے زلزلے کے بعد وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے اور پچاس ہزار فوجی تباہ حال علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیے بھیجے ہیں۔

چینی فوج اور پولیس کے چند سو جوانوں پر مشتمل امدادی ٹیم ٹوٹی سڑکوں اور خراب موسم سےنبرد آزما ہونے کے بعد منگل کو رات گئے وینچوان پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

اس امدادی ٹیم نے اپنی ابتدائی کوششوں کے دوران پانچ سو لاشیں دریافت کی ہیں تاہم وہ تاحال زیادہ تباہ شدہ علاقے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔

اب بھی ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں

زلزلے سے متاثرہ صوبے سیچوان کے نائب گورنر لی چینگیون کے مطابق ہلاک ہونے افراد میں سے7395 میانیانگ،2648 دیانگ، 959 صوبے کے دارالحکومت چینگڈو، 700 گوانگیانگ اور 161 ایبا تبتین کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ میانزہو کے قصبے میں 3000 افراد مارے گئے ہیں۔

سرکاری افسر ہی بیو کا کہنا تھا کہ’ وہ ملبے تلے لوگوں کی مدد کے لیے چیخ و پکار سنتے رہے لیکن کچھ کر نہ سکے کیونکہ علاقے میں کوئی ماہر امدادی ٹیم نہیں پہنچ سکی تھی‘۔

خبر رساں ادارے ژن ہوا کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلے کے مرکز کے نزدیک واقع ایک اور شہر میانیانگ میں اندازاً اٹھارہ ہزار افراد ملبے تلے دفن ہیں جبکہ ایک اور قصبےمیانز ہو میں کم از کم چار ہزار آٹھ سو افراد پھنسے ہوئے ہیں اور زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے مٹی کے تودوں نے قصبے تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔

بی بی سی کے کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ چینی فوج تیز رفتاری سے حرکت میں آنے کے حوالے سے کافی اچھا ریکارڈ رکھتی ہے اور اس لیے وہ جلد امدادی کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے خبریں بہت تیزی سے آ رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ چینی سرکاری میڈیا اتنی تندہی سے کام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد