BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 May, 2008, 04:02 GMT 09:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پابندیوں میں نرمی، امداد پہنچنا شروع
برما
امداد کی تقیسم پر لگائی گئی پابندیوں میں کمی آئی ہے
برما کے آفت زدہ علاقوں میں امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے جو بظاہر اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت نے غیر ممالک کی امداد پر لگائی گئی پابندیوں میں کمی کی ہے اور اب امدادی سامان قدرے تیزی سے ہوائی اڈوں سے نکل کر تقسیم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام یا خوراک کے عالمی پروگرام نے 38 ٹن امداد تقسیم کی ہے اور اس کے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ابھی بہت امداد پہنچنا باقی ہے۔

امدادی کاموں کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ریڈ کراس کی امداد سے بھری ہوئی کشتی اراوادی ڈیلٹا میں ڈوب گئی۔

سرکاری ٹی وی نے طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28458 بتائی ہے جبکہ 33416 افراد لاپتہ ہیں۔

تاہم امدادای اداروں کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ تعداد پندرہ لاکھ تک جا سکتی ہے۔

آکسفیم کے مطابق ابھی تک اس طوفان میں ہلاک ہو نے والوں کی تعداد تقریباًایک لاکھ ہے لیکن اگر صاف پانی اور صحتِ عامہ کی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو یہ تعداد پندرہ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

عالمی بچاؤ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر امداد مہیا نہ کی گئی تو برما میں ایک بڑا سانحہ ہو سکتا ہے۔

ریڈ کراس اور دیگر امدادی ایجنسیوں کے مطابق ہزاروں لوگ بے گھر ہیں اور انتہائی خراب حالات میں سکولوں ہسپتالوں اور بڑی بڑی عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق طوفان کے آٹھ دن گزرنے کے باوجود متاثرہ لوگوں میں سے صرف ایک تہائی تک ہی امداد پہنچ سکی ہے۔

آکسفیم کی ایسٹ ایشیا ڈائریکٹر سارہ آئر لینڈ کا کہنا ہے کہ برما میں بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ ہے۔

اقوامِ متحدہ نے 96 ملین پاؤنڈز کی امداد کی اپیل کی ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ برما کے شدید متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر خوراک ادویات اور خیموں کی ضرورت ہے۔

تین مئی کو آنے والے طوفان کے بعد سے ہی ملک میں پہلے سے موجود امدادی ایجنسیوں نے مقامی ذرائع سے سامان خرید کر کام کرنا شروع کر دیا تھا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں مزید امداد جلدی ہی نہ پہنچی تو موجودہ سپلائی ختم ہو جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد