پھنسے پاکستانیوں کیلیے امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موریطانیہ اور سپین کے حکام موریطانیہ کے ساحل پر ایک کشتی میں سوار دو سو غیر قانونی پاکستانی تارکینِ وطن کے بندرگاہ پر اترنے کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ دریں اثنا موریطانیہ کی ہلال احمر اور سپین کی ریڈ کراس نے ان دو سو پاکستانیوں کے لیے فوری امداد بھیجی ہے۔ یہ امداد زیادہ تر کھانے پینے کی اشیاء پر مشتمل ہے جس میں بسکٹ، ڈبل روٹیاں، پانی اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ فرانسیسی خبررساں ادارے نے موریطانیہ کے حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اس کشتی پر کم از کم چار سو کے قریب غیر ملکی تارکین وطن سوار ہیں جن میں سے دو سو کے قریب کشمیری ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ تعین نہیں کیا کہ ان کشمیریوں کا تعلق پاکستان سے ہے یا بھارت سے۔ انہوں نے کہا کہ موریطانیہ کے حکام نے پیر کی شام ایک مرتبہ پھر ان غیر ملکی تارکینِ وطن کو نووادھیبو کی بندگاہ پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ موریطانیہ کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موریطانیہ کا اس کشتی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس میں سوار غیر ملکی تارکین وطن کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے۔ اس بیان میں کہا گیا کہ کشتی پر سوار دوسو کے قریب مسافروں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ کشتی کئی سو میل جنوب میں گنی کی طرف جا رہی تھی جہاں سے اس کی منزل کنیری کے جزائر تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی یہ کشتی سنیچر کو سمندر میں خراب ہوگئی تھی اور سپین کی بحری فوج کے ایک جہاز نے اس کشتی کو کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادھیبو پہنچایا۔ جب ہسپانوی بحریہ نے موریطانیہ کے حکام سے غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ہوئی کشتی کے لیے مدد طلب کی تو انہوں نے مکمل انکار کرتے ہوئے خود کو اس ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیا۔ موریطانیہ کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں پھنسی ہوئی اس کشتی نے اپنا سفر میلوں دور واقع جزیرے گنی بساؤ سے شروع کیا تھا اور اس کشتی میں خرابی بھی موریطانیہ کی ساحلی حدود میں نہیں ہوئی۔ اس لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ اس کشتی کو پناہ دینے کا پابند نہیں ہے۔ ادھر ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ ہسپانوی بحری جہاز نے موریطانیہ سے پہلے اتوار کو غیر ملکی تارکینِ وطن کی کشتی کو سینیگال کی نزدیک ترین بندرگاہ پر لے جانے کوشش کی تھی لیکن سینیگال نے بھی اس کشتی کو واپس لے جانے کے احکامات جاری کر دیئے۔ سینیگال اور موریطانیہ غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مقبول ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن کنیری جزیروں پر پہنچتے ہیں جہاں سے انہیں یورپ میں داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں بارہ سو پاکستانی گرفتار19 January, 2007 | پاکستان تارکین وطن سے فائدہ نہیں: رپورٹ03 January, 2007 | آس پاس یونان پاکستانی: تفتیش کارمقرر29 December, 2005 | آس پاس انسانی سمگلنگ کے خلاف نئے اقدامات02 August, 2005 | پاکستان پاکستانی، بھارتیوں کا ہسپانیہ پر ہلہ 27 April, 2005 | آس پاس مسقط سے نکالے گئے پاکستانی واپس22 September, 2004 | پاکستان ہزاروں کو ہالینڈ چھوڑنا پڑے گا17 February, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||