بارہ سو پاکستانی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے جمعہ کو سینیٹ کو بتایا ہے کہ دنیا کے اکتیس ممالک میں گزشتہ تین برسوں میں جعلی سفری دستاویزات کی بنا پر بارہ سو ساٹھ پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران محمد طلحہ محمود کے سوال پر انہوں نے ایوان میں پیش کردہ تحریری جواب میں بتایا ہے کہ بیشتر پاکستانی جعلی سفری دستاویزات پر یورپ میں گرفتار ہوئے۔ ان کے مطابق یورپ میں پکڑے جانے والے سب سے زیادہ افراد یعنی چار سو اٹھائیس کو برطانیہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی میں اٹھاسی، فرانس میں باون، اٹلی اور پولینڈ میں اٹھائیس، آسٹریا میں چوبیس، ناروے میں انیس، کروئیشیا میں اٹھارہ، ڈینمارک میں سترہ اور پرتگال میں چھ پاکستانی شہری جیلوں میں بند ہیں۔ وزیر کے مطابق سعودی عرب میں تین سو گیارہ، سنگاپور میں ستاسی، جاپان میں اڑتیس، ہانگ کانگ میں بارہ، کینیڈا میں پچیس، امریکہ میں سولہ، ملائیشیا میں اٹھارہ، مصر میں سات اور باقی ممالک میں اکا دکا پاکستانی جعلی سفری دستاویزات کے جرم میں جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ممالک میں پاکستانی سفارتی عملہ جیلوں میں قید پاکستانیوں سے وقتاً فبوقتاً ملاقات کرتا ہے اور انہیں ضروری دستاویزات اور قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔ ایک اور سوال پر وزیر خارجہ نے بتایا کہ مختلف ممالک میں پاکستان کے چُہتر سفیر تعینات ہیں جس میں سے نو ریٹائرڈ فوجی افسران ہیں۔ لیاقت علی بنگلزئی کے پوچھے گئے سوال کے تحریری طور پر پیش کردہ جواب میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کی تعلیمی لیاقت جنگی امور کے بارے میں ہے اور پہلی بار انہیں بطور سفیر تعینات کیا گیا ہے۔ وزیر کی پیش کردہ معلومات کے مطابق چھہتر میں سے صرف برطانیہ میں تعینات ڈاکٹر ملیحہ لودھی واحد سفیر ہیں جو ڈاکٹریٹ کی سند رکھتی ہیں۔ جبکہ پندرہ سفیر گریجوئیٹ اور باقی ماسٹرز کی اسناد رکھتے ہیں۔ حسن سرمد نامی ایک سفیر الیکٹرک انجنیئرنگ جبکہ سعید خالد کے پاس بی فارمیسی کی سند ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا: انسدادِ بردہ فروشی مہم 23 June, 2006 | انڈیا انسانوں کا سمگلر گرفتار14 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||