انڈیا: انسدادِ بردہ فروشی مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بردہ فروشی یا انسانوں کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے انڈیا میں دیہاتوں کے مکھیاؤں اور سر پنچوں سے کہا ہے کہ وہ روزگار کی تلاش میں گاؤں سے کہیں باہر جانے والوں کے کوائف رکھا کریں تا کہ انہیں لاپتہ ہونے کی صورت میں تلاش کیا جا سکے۔ دلی سے گیتا پانڈے کی اطلاع کے مطابق انڈیا سے ہر سال ہزاروں عورتوں اور بچوں کو سمگل کیا جاتا ہے اور انجام کار ان کا سفر جسم فروشی پر ختم ہوتا ہے۔ بردہ فروشی کا نشانہ والے بچوں سے بھیک بھی منگوائی جاتی ہے اور انہیں بعض صنعتوں میں جبری مشقت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دہلی میں یو این ڈی پی کے انسداد انسانی سمگلنگ پروجیکٹ کی سربراہ مونا مشرا کا کہنا ہے کہ سمگلنگ میں ملوث لوگوں کو ناکام بنانے کے لیئے ہر وقت اور ہر لمحہ چوکس رہنے اور سرگرم ہونے کی ضرورت ہے اور عام لوگ یہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پروجیکٹ کے تحت تیس ہزار دیہاتوں میں نوجوان مردوں اور عورتوں کو نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا ریکارڈ رکھنے کی تربیت دینے کا کام شروع کیا جارہا ہے۔ یہ لوگ انسانی سمگلنگ کرنے والوں پر بھی نظر رکھیں گے اور اگر ان کے علاقوں سے کوئی لاپتہ ہو گا تو اس کی اطلاع حکام کو دیں گے۔ انڈیا کے دیہی علاقے میں افلاس اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث ہزارہا لوگ شہروں کی جانب نقل مکانی کر جاتے ہیں جن میں سے اکثر سمگلنگ کرنے والے ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جو انہیں معقول معاوضے دلانے کا لالچ دیتے ہیں اور پھر یا تو ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے یا جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں سو میچ، بائیس گول، انسانی سمگلنگ اور جیل20 March, 2004 | آس پاس انسانی سمگلنگ کیخلاف پاکستان 26 August, 2005 | پاکستان انسانی سمگلنگ کےخلاف نئےاقدامات13 May, 2005 | پاکستان بھارت پرانسانی سمگلنگ کا الزام07 October, 2004 | پاکستان انسانوں کا سمگلر گرفتار14 July, 2004 | پاکستان افریقہ میں انسانی سمگلنگ عروج پر23 April, 2004 | آس پاس بیلجیئم: انسانی سمگلنگ پر سزا12 August, 2003 | صفحۂ اول انسانی سمگلنگ: پابندیوں کی دھمکی12.06.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||