انسانی سمگلنگ کیخلاف پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایکشن پلان بنایا ہے۔ جس کے نتیجے میں سمگلنگ کی شرح ستر فیصد کم ہو نے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز نے کراچی میں جمعہ کو ایک اخباری پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ انسانی سمگلنگ روکنے کے لیے تین مراحلی ایکشن پلان بنایا گیا ہے جو اسٹارٹنگ پوائنٹ، ٹرانزٹ پوائنٹ اور ایگزٹ پوائنٹ شامل ہے۔ سٹارٹنگ پوائنٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی طریقے سے باہر جانے والوں میں اسی فیصد لوگوں کا تعلق گجرانوالہ سے ہے۔ اس لیے ہم نے گجرانوالہ کو فوکس کیا ہوا ہے۔ انہوں نے اس کے اسباب تو نہیں بتائے مگر کہا کہ صرف ایک کارروائی میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ پکڑے گئے۔ جنہیں ایجنٹ بیرون ملک لے جارہے تھے۔ ٹرانزٹ پوائنٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے غیرقانونی طریقے سے باہر جانے والے لوگ کراچی اور کوئٹہ میں جمع ہوتے ہیں۔ جہاں سے ان کو آگے روانہ کیا جاتا ہے۔ جب کہ ایگزٹ پوائنٹ کے بارے میں ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ تافتان، مدبلو اور گوادر سے یہ لوگ باہر بھیجے جاتے ہیں۔ ایکشن پلان کے تحت ان تینوں پوانٹوں کی نگرانی کی جارہی ہے۔ طارق پرویز کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان سے بعض ممالک کے تعلقات خراب ہو رہے تھے۔ امریکا نے بھی اس سلسلے میس پاکستان کو واچ لسٹ پر رکھا ہوا تھا۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ انسانی سمگلنگ کی ایک وجہ جعلی دستاویز بھی ہیں۔ کراچی اور اسلام آباد ائرپورٹ پر خصوصی کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں صرف گزشتہ چھ ماہ میں ایک سو بائیس لوگوں کو آف لوڈ کیا گیا ہے۔ موثر کارروائی کے لیے انٹر ایجنسی ٹاسک فورس بنائی گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث حقیقی ملزمان بااثر ہیں اس وقت تک خاطر خواہ نتائج نہیں نکلیں گے جب تک ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔ان کے مطابق ہم نے کچھ اقدامات کیے ہیں دسمبر تک کچھ بہتری ہوگی۔ اونٹ کی دوڑ کے لیے بچوں کی سمگلنگ کے بارے میں انہوں نے بتایا کے ایئرپورٹ پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو قائم کیے گئے ہیں جہاں اس کی نگرانی کی جارہی ہے۔ ڈی جی کے مطابق اونٹ ریس میں استعمال ہونے والے اکثر بچے ملتان ڈویزن سے اسمگل کیے جاتے ہیں۔ صرف گزشتہ چھ ماہ میں سینتیس بچوں کو بازیاب کیا گیا ہے اور اڑتیس ایجنٹ گرفتار ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ دو ہزار چار میں اسپیشل انٹیلی جنس گروپ تشکیل دیا گیا تھا۔ جس کے ہم مزید یونٹ بنا رہے ہیں۔ ہمیں بہت حساس ٹارگٹ ملا ہے۔ انہوں نے ٹارگٹ کے بارے میں نہیں بتایا صرف اتنا کہا کہ دسمبر تک بہت بڑی گرفتاری ہوگی۔ جعلی سی ڈیز کے خلاف کارروائی کے بارے میں طارق پرویز نے بتایا کہ سی ڈیز بنانے والوں کو عدالت نے اجازت دی تھی اور ہدایت کی کہ وہ قانونی کے دائرے میں رہتے ہوئے مقامی آرٹسٹوں کی سی ڈیز بناسکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||