افغانستان: امداد سے زیادہ اخراجات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں چورانوے امدادی تنظیموں پر مشتمل ایک گروپ کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان حکومت کےخاتمے کے بعداعلان کردہ امداد میں سے تقریباً دس ارب ڈالر کی رقم ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے۔ ایجنسی کوآرڈینیٹنگ باڈی فار افغان ریلیف نامی اس گروپ کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کا دو تہائی حصہ افغان حکومت کے ذریعے آتا ہے۔ جس میں سے چالیس فی صد حصہ تنظیمی اخراجات، ماہرانہ مشوروں اور اپنے ممالک سے باہر رہ کر کام کرنے والے اہلکاروں کی نظر ہو جاتا ہے۔ گروپ نےخبردار کیا ہے کہ ان وجوہات کی بناء پر افغانستان کو مستحکم کرنے کی کوششیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ ایکبر رپورٹ کے لیے تحقیق ایک ممبر تنظیم آکسفیم نے کی ہے۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ’مغربی ممالک اپنی ذمہ دارایاں نبھانے میں ناکام ہور ہے ہیں، اور اس سے ان کے قول و فعل میں تضاد کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ رپورٹ میں رقوم خرچ کرنے کے طریقے کار پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔ افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے ممالک میں امریکہ سرفہرست ہے۔ لیکن یو ایس ایڈ کے اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سن دو ہزار ایک سے امریکہ نے وقف شدہ رقم کا صرف دو تہائی صرف کیا۔ انہوں نے اس کا ذمہ دار ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کو ٹھہرایا جس کی وجہ بہت سے منصوبے تکمیل کو نہیں پہنچ پا رہے۔ ایجنسی کوآرڈینیٹنگ باڈی فار افغان ریلیف نامی گروپ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ لوگوں کے دل جیتنے کے لیے، فوجیوں کے خلاف بغاوت کو کچلنے کی حکمت عملی کے طور پر ، قلیل المدت منصوبوں پر روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا جس سے طویل المیعاد ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک طرف امریکی فوجیوں کے روزانہ اخراجات سو ملین ڈالر ہیں جبکہ دوسری جانب سن دو ہزار ایک سے تمام امدادی تنظیموں کی جانب سے روزانہ خرچ کی گئی اوسط رقم سات ملین ڈالر ہے۔ اس رپورٹ کے نتیجےمیں جوحقائق سامنے آئے ہیں اس نے افغانستان کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے کیونکہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے وہ اچھے وقت کو دیکھنے کے لیے خاصے پر امید تھے۔ افغان قوم ترقی اور تعمیر نو کے کاموں کے لیے اربوں ڈالر کی رقوم کے وعدوں کے باوجود ملک میں خاطر خواہ تبدیلی نہ آنے سے مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: پوست کی ریکارڈ پیداوار01 March, 2008 | آس پاس برطانیہ افغانستان تعلقات، دو دھاری تلوار07 February, 2008 | آس پاس دوہزار سات اور عالمی حالات 01 January, 2008 | آس پاس امن کے لیے افغان خواتین کی دعائیہ تقریبات13 December, 2007 | آس پاس چھ امریکی، تین افغان فوجی ہلاک10 November, 2007 | آس پاس ’دہشتگردی دونوں کیلیے خطرہ ہے‘12 August, 2007 | آس پاس ’سول ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘10 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||