امن کے لیے افغان خواتین کی دعائیہ تقریبات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے مختلف علاقوں میں افغان خواتین ملک میں امن کے قیام کے لیے دعائیہ تقریبات منعقد کر رہی ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ملک کے چھ بڑے صوبوں میں ہونے والی دعائیہ تقریبات میں ایک ہزار سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ خواتین کی قومی دعائیہ امن تقریبات قندھار اور ہلمند سمیت ملک کے مختلف مقامات پر منعقد ہوئیں۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں ایسی تقریبات منعقد ہوئی ہوں۔ اس سال کے شروع میں جب کئی سو خواتین نے قندھار میں دعائیہ تقریب منعقد کی تھی تو یہ اپنی نوعیت کی پہلی تقریب تھی۔ اب تشدد کے ملک کے دیگر علاقوں میں پھیلنے کے ساتھ پانچ دیگر صوبوں میں ایسی ہی دعائیہ تقریبات ہوئی ہیں۔ تقریب کی ایک منتظم رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ ایسی تقریبات کا انعقاد غیر معمولی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریبات ا فغان خواتین کے اتحاد کا مظہر ہیں۔
رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ تمام خواتین نے یک زبان ہو کر کہا کہ وہ جنگ کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں سے تنگ آ چکی ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ چند افغان خواتین ان تقریبات میں شرکت کے سلسلے میں ڈری ہوئی تھیں۔ قندھار کی ایک ماں جن کی تجویز پر یہ دعائیہ تقریبات منعقد ہوئی کہا کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے کیونکہ اس سے ان کا خاندان ناراض ہو جائے گا۔ رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ قندھار میں ہونے والی تقریب کی شرکاء اس بات پر خوش تھیں کہ تقریب بغیر کسی دھمکی یا تشدد کے منعقد ہوئی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونی والی تقریبات اس تحریک کا نقطہ آغاز ہیں اور اب ان کا مقصد ایسی تقریبات کو ملک کے چونتیس صوبوں تک پھیلانا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||