برطانیہ افغانستان تعلقات، دو دھاری تلوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی افغانستان کو تین بلین ڈالرز کی امداد اور ستاسی فوجیوں کی ہلاکت اور سات ہزار آٹھ سو فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود برطانیہ اور افغانستان کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے ہیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں افغان صدر حامد کرزئی نے سکاٹ لینڈ میں شہزادہ چارلس سے ملاقات کی لیکن پھر دسمبر میں افغانستان میں برطانوی سفیر کو صدارتی محل میں بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ ان کی ساتھ کام کرنے والا برطانوی طالبان کے ساتھ کیوں بات چیت کر رہا ہے۔ اور اب پچھلے ہفتے حامد کرزئی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی فوج نے ہلمند صوبے میں حالات بگاڑ دیے ہیں۔ یہی نہیں حامد کرزئی نے پیڈی ایش ڈاؤن کی نامزدگی، جس سے عالمی کوششوں کو ایک نئی سمت ملتی، کو بھی رکوا دیا۔ تعلقات میں خرابی کہاں آئی؟ برطانیہ اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ ہی سے دو دھاری تلوار کی مانند رہے ہیں۔ شاید تاریخ میں جھانکنے سے اس امر کی وضاحت ہو سکے۔ برطانیہ کی افغانستان میں خونی تاریخ رہی ہے جس میں انہوں نے مارا بھی اور مارے بھی گئے۔ طالبان ہی صرف اس تاریخ کو یاد کر کے انیسویں صدی کی برطانوی شکست کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔ بلکہ افغان بھی برطانیہ اور روس کے مابین ’گریٹ گیم‘ میں افغانستان کے استعمال کو یاد کرتے ہیں۔ کچھ مائیں اپنے بچوں کو ڈرانے کے لیے کہتی ہیں ’تنگ مت کرو نہیں تو برطانوی آ جائیں گے‘، پشتون اکثر برطانیہ کے لیے شیطان کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور پھر برطانیہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت افغانوں میں غیر اعتمادی پیدا کرتا ہے۔
برطانیہ کو اپنے ہی ملک میں برطانوی دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کی خفیہ ایجنسیز کے ساتھ اس امر سے قطع نظر تعلقات رکھنے پڑتے ہیں کہ پاکستان پر الزام ہے کہ وہ طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اور پھر افغان صدر جو کہ اگلے سال انتخابات میں حصہ لینے جا رہے ہیں وہ مغرب کا پُتلا ہونے کی چھاپ ہٹانا چاہتے ہیں۔ افغانستان ایک خود مختار ملک ہے اور صدر کرزئی جمہوری عمل کے ذریعے منتخب صدر ہیں لیکن وہ اپنی سالمیت کے لیے چالیس ہزار فوجی اور اربوں ڈالرز کی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن وہ رائے عامہ کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اسی لیے کئی اخبارات پڑھتے ہیں خاص طور پر برطانوی اخبار۔ برطانوی اخبارات کے ان کالموں نے جن میں کہا گیا کہ صدر کرزئی کو پیڈی ایشڈاؤن کو قبول کرنا ہی ہوگا شاید صدر کرزئی کو جھنجلا دیا ہو گا۔ صدر کرزئی کی ملاقات ایشڈاؤن سے ہوئی تھی اور ان کی نامزدگی تقریباً قبول ہو گئی تھی لیکن پھر برطانوی اخبارات کا ایشڈاؤن کو وائسرائے قرار دینے نے تمام صورتحال تبدیل کردی۔ اور پھر مائیکل سیمپل کے قصے نے دونوں ممالک کے تعلقات کے تابوت کی آخری کیل کا کام کیا۔ مائیکل یورپی یونین کا کابل میں قائمقام سربراہ تھے اور برطانیہ کے ساتھ مل کر طالبان کے درمیانے درجے کے کمانڈروں کو تحریک چھوڑنے پر آمادہ کر رہے تھے۔ اگرچہ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات نہیں کریں گے لیکن افغانستان میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس مسئلے کے حل کا یہی طریقہ ہے۔ افغانستان میں امریکی سفیر بُل ووڈ کا کہنا ہے کہ مداکرات ہو سکتے ہیں اگر ان کا تعلق القاعدہ ہے نہ ہو۔ اصل مسئلہ ڈیڑھ لاکھ ڈالرز کا وہ پروگرام ہے جس کے تحت نوجوان جنگجوؤں کو انسانی حقوق اور افغان آئین کی تعلیم دی جانی ہے۔ افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حال ہی میں ضبط کی گئی کمپیوٹر ڈسک پر عسکری تربیت کے منصوبہ کو مدِ نظر رکھیں تو ہر برادری میں ملیشیا کی تیاری کے برطانوی منصوبے کو تقویت ملتی ہے۔ صدر کرزئی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ان کے علم میں نہیں تھا۔ تاہم اس سے ماضی کے برطانوی خفیہ منصوبوں کی یاد تازہ ہو گئی اور اس بار تو بات طالبان کا ساتھ دینے اور شاید کسی دماغی خلل کا شکار فرد کی نظر میں حامد کرزئی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات اس سے قبل بھی خراب ہوتے رہے ہیں لیکن اس بار بات زیادہ ہی بگڑ گئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ اس میں بہتری کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ افغانستان نے ایشڈاؤن کی جگہ لینے کے لیے یورپ میں نیٹو کے نائب کمانڈر جنرل جان میکول کا نام تجویز کیا ہے۔ جان میکول ایک فوجی ہیں اور اقوام متحدہ کبھی بھی ان کی نامزدگی ایک سویلین مشن کے لیے منظور نہیں کرے گی لیکن انہیں بین الاقوامی فوج کے پہلے کمانڈر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور اس وقت کی بات ہے کہ جب حالات بہتر تھے۔ اب وہ زمانہ نہیں اور حامد کرزئی محسوس کرتے ہیں کہ انہیں غلط مشورہ دیا گیا ہے اور افغانستان پر مغربی چھاپ کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو رہی ہے جس سے افغانستان کی خود مختاری خطرے میں ہے جبکہ دوسری طرف برطانیہ محسوس کرتا ہے کہ ان کو مایوس کیا ہے اس شخص نے جو فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ |
اسی بارے میں افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس امریکی مؤقف پر نیٹو اتحادی حیران02 February, 2008 | آس پاس قبائلی علاقے’القاعدہ کی پناہ گاہ‘05 February, 2008 | آس پاس ’افغان مشن ناکام ہوا تو حملے ممکن‘07 February, 2008 | آس پاس نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہے: امریکہ07 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||