’افغان مشن ناکام ہوا تو حملے ممکن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے سیکرٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ شیفر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نیٹو مشن کی ناکامی کا نتیجہ مغربی ممالک پر دہشتگرد حملوں کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جاپ ڈی ہوپ شیفر کا کہنا تھا کہ اگرچہ نیٹو کو افغان محاذِ جنگ پر کامیابیاں ملی ہیں لیکن ابھی اصل چیلنج باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں نیٹو کی کارروائیاں ناکام ہوئیں تو اس سے مغربی داارالحکومتوں پر حملوں کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دورانِ اجلاس رکن ممالک پر زور دیں گے کہ وہ افغان فوج کی تربیت اور انہیں مسلح کرنے پر زیادہ زور دیں۔ ادھرامریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس اور ان کے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ ملی بینڈ ایک غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچے ہیں۔خیال ہے کہ اس حالیہ دورۂ افغانستان کے دوران دونوں وزرائے خارجہ افعان صدر حامد کرزئی اور فوجی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان دونوں رہنماؤں نے گزشتہ روز لندن میں بھی ملاقات کی تھی جس میں جنوبی افغانستان میں جنگ کا بوجھ بانٹنے کے حوالے سے نیٹو رکن ممالک کو راضی کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
اس سے قبل ادھر امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان پر اختلافات کی وجہ سے نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ نیٹو کے وزرائے دفاع کے ایک اجلاس سے قبل مسٹر گیٹس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو نیٹو دو صفوں والا اتحاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افغانستان میں بغاوت کو کچلنے کے لیے لڑی جانے والی جنگ کے بوجھ کو اگر نہ بانٹا گیا تو جنگ لڑنے والوں میں سے لڑائی کی روح جاتی رہے گی۔ رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے: ’مجھے نیٹو اتحاد کے بارے میں بہت فکر ہے کہ کہیں یہ دو صفوں والا اتحاد نہ بن جائے جس میں ایک طرف کے اتحادی لوگوں کی حفاظت کے لیے لڑنے اور جان دینے پر رضا مند ہوں اور دوسری طرف کے اتحادی ایسا نہ کریں‘۔ افغانستان کے جنوب میں نیٹو کے تحت لڑائی میں زیادہ تر امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور نیدرلینڈ کے فوجی شامل ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب جرمنی نے کہا ہے کہ وہ شمالی افغانستان میں دو سو فوجی بھیجے گا۔جرمنی کے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ جرمن فوجی اگلے چند ماہ میں مزارِ شریف میں بھیجے جائیں گے لیکن کسی ہنگامی حالت میں انہیں کہیں بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی حکومت نے یورپی ممالک کو خطوط لکھے تھے اور انہیں کہا تھا کہ وہ جنوبی افغانستان میں اپنے فوجی بھیجیں۔’تاہم جرمنی کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے: میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریاں شمال سے جنوب کی طرف مرکوز کر دیں تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی‘۔
حال ہی میں امریکی وزیرِ دفاع بادلِ ناخواستہ افغانستان میں اضافی امریکی میرین بھیجنے پر تیار ہوگئے تھے۔ البتہ اس سے قبل ان کا کہنا تھا کہ اضافی فوج دیگر ممالک سے بھیجی جانی چاہیے۔ نیٹو کے تمام چھبیس اراکین نے بین الاقوامی سکیورٹی فوج ایساف میں اپنے فوجی دیے ہیں لیکن امریکہ کے بہت سے حلیف جن میں جرمنی، فرانس، سپین، ترکی اور اٹلی شامل ہیں، جنوب میں زیادہ فوجی روانہ کرنے سے انکاری ہیں۔ اس وجہ سے دیگر اتحادیوں سے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، ڈنمارک اور رومانیہ خوش نہیں کیونکہ ان پانچ ممالک نے جنوبی افغانستان میں بغاوت کو کچلنے میں زیادہ کام کیا ہے اور زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ اب کینیڈا نے کہا ہے کہ اگر دیگر اتحادیوں نے قندھار میں کمک نہ فراہم کی تو وہ پچیس سو نفوس پر مبنی اپنی فوج افغانستان سے باہر نکال لے گا۔ | اسی بارے میں جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار02 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس افغانستان: سردی سے200 ہلاک18 January, 2008 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس ہلمند حملہ، نائب گورنر ہلاک31 January, 2008 | آس پاس افغان سینیٹرز سزائے موت کے حامی نہیں31 January, 2008 | آس پاس کابل میں خودکش حملہ31 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||