BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 February, 2008, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی مؤقف پر نیٹو اتحادی حیران
افغانستان
امریکہ نے متنبیہ کیا ہے کہ اب تک کی کامیابیاں بے ثمر بھی ہبو سکتی ہیں
جنوبی افعانستان میں جاری کارروائی میں مزید کردار ادا کرنے کے لیے امریکہ کے اصرار نے کچھ ایسے اتحادیوں کو نہ صرف سٹپٹا دیا ہے بلکہ ناراض بھی کر دیا ہے جو اس بات کو غیر تعمیری اور بنیادی طور پر امریکہ کی داخلی سیاست کا تقاصا تصور کرتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع روبرٹ گیٹس کی جانب سے مزید فوجیوں کے مطالبے کے جواب میں جرمنی نے واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی افغانستان میں وہ سب کچھ کر رہا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔

جرمنی کے وزیر دفاع نے امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ افغانستان میں تین ہزار دو سو فوجی بھیجنے کا فیصلہ گزشتہ سال جرمنی کی پارلیمنٹ نے کیا تھا جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ محسوس کرتا ہے کہ جنوبی افغانستان کا بڑا بوجھ وہ اکیلا اٹھا رہا ہے اور وہاں جاری کارروائیوں کو تقویت دینے کے لیے مزید تین ہزار فوجی بھیج رہا ہے جس کے نتیجے میں امریکی وزیر دفاع اور امریکی انتظامیہ کو امریکی عوام کے سامنے یہ وضاحت کرنی پڑے گی کہ دوسرے نیٹو اتحادی بھی ایسا کیوں نہیں کر رہے۔

اس پہلے بھی امریکی وزیر دفاع جنوبی افغانستان میں شورش سے نمٹنے کے لیے نیٹو اتحادیوں کی صلاحیت پر تنقید کر کے انہیں ناراص کر چکے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کو اپنے عوام کے سامنے یہ وضاحت کرنی پڑے گی کہ وہ فوجی بھیج رہے ہیں تو نیٹو اتحادی کیوں نہیں بھیج رہے

نیٹو کی سیکرٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ جہاں تک فوجوں کے بڑھانے کا معاملہ ہے، جیسا کہ اسے کہا جا سکتا ہے، افغانستان میں افواج کو بھیجنے نہ بھیجنے کا فیصلہ کرنا نیٹو کی ذمہ داری ہے‘۔

انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے تشویش یہ ہے کہ اس سے افغانستان میں ہونے والی اچھی باتوں اور مشن کی کامیابیوں کے بارے میں ابہام پیدا ہو گا‘۔

اس حوالے سے جمعرات کو تین رپورٹیں شائع ہوئی ہیں جن میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر نئی بین الاقوامی کوششیں نہ کی گئیں تو خطرہ ہے ملک پیچھے کی طرف جا سکتا ہے۔

کابل میں اقوام متحدہ کی نمائندگی کے لیے برطانوی لارڈ ایشڈون کی نامزدگی میں افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے رکاوٹ نے یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ اس سے افعان حکومت اور عالمی برادری کے مابین ایک کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ کے مندوب کے طور کسی ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جانا چاہیے جو سب کے لیے قابلِ اعتماد اور ایسی مضبوط ہو جو تیس سال سے جاری جنگ کے باعث تباہ ہو جانے والے ملک و قوم کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کی جانے والی ان فوجی اور سول کارروائیوں کو موثر بنا سکے جو کبھی کبھی باہمی عدم تعاون کا شکار بھی ہو جاتی ہیں۔

برطانیہ نے تا حال خود کو فوجیوں کی تعداد بڑھانے پر جاری اس بحث سے باہر رکھا ہے اور اپنی رائے کے اظہار کو آئندہ ہفتے ولینس میں ہونے والے نیٹو وزارائے دفاع کے اجلاس پر اٹھا رکھا ہے۔

اگرچہ جنوبی افغانستان کی لڑائی میں برطانیہ کے سات ہزار آٹھ سو فوجی شریک ہیں اور وہ بھی یہ چاہتا ہے کہ دوسری اقوام بھی اپنا کردار ادا کریں۔

نیٹو
نیٹو ارکان جانتے ہیں کہ اب وہ شکست کے متحمل نہیں ہو سکتے

وزیراعظم گورڈن براؤن بھی نچلی سطح کے طالبان جنگجوؤں حمایت حاصل کرنے کے لیے افغانستان کی سیاسی اور اقتصادی ترقی اور فوجی کارروائیوں میں ایسے قریبی فوجی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں جس میں زیادہ توجہ تعمیرِ نو کی سرگرمیوں پر مرکوز رہے اور اسے وہ شورش کے خاتمے کا اہم حصہ تصور کرتے ہیں۔

اس تناظر میں نیٹو اتحادیوں کے درمیان حال ہی پیدا ہونے والے اختلافات کسی حد تک اتنے برے نہیں ہیں کیونکہ افغانستان میں اگر نیٹو اتحادی فتح مند نہیں ہو رہے تو ہار بھی نہیں رہے ہیں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں بیالیس ہزار فوجیوں کی موجودگی نے اتحاد کو طالبان پر نہ صرف ایک برتری دلائی ہے بلکہ انہیں خود کُش حملوں جیسی دوسری حکمتِ عملیاں اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کونڈلیزا رائس اگلے ہفتے برطانیہ آنے والی ہیں اگرچہ ان کے ترجمان اس خطرے سے متنبہ کر چکے ہیں کہ دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کے برخلاف وقت پیچھے کی طرف بھی لوٹ سکتا ہے۔

نیٹو ارکان جانتے ہیں کہ اب وہ شکست کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ سبھی کو معلوم ہے کہ ان کی تمام تر ساکھ کا انحصار افغانستان کے مستحکم ہونے پر ہے۔

اب اتحاد نے جن وسائل کو اکٹھا کرنا ہے وہ خود ان کی ساکھ کے لیے بھی ناگزیر ہیں اور افغانستان کے مستقبل کے لیے بھی، جس کے عوام کااعتبار اپنی روزمرہ زندگی کی بہتری کے لیے خود اپنی حکومت اور عالمی برادری پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
افغانستان: سردی سے200 ہلاک
18 January, 2008 | آس پاس
کابل میں خودکش حملہ
31 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد