’دہشتگردی دونوں کیلیے خطرہ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے درمیان چار روزہ امن جرگے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو خطرہ ہے۔ کابل جرگے نے اعلامیے کی بنیادی سفارشات میں دہشت گردی کو دونوں ممالک کا مشترکہ خطرہ قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دونوں ملکوں کی قومی اور سکیورٹی پالیسیوں کے اہم حصے طور پر جاری رہنی چاہیے۔ اعلامیے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں حکومتیں اور وہاں کے لوگ اپنے ملکوں میں دہشت گردوں کو پناہ یا تربیت کی اجازت نہیں دیں گے۔ جرگے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے طالبان سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کی طرف سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جرگے میں شرکت سے قبل صدر مشرف نے افغانستان کے اپنے ہم منصب حامد کرزئی سے مذاکرات کیئے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی عدم اعتماد کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اس شک میں مبتلا نہ ہو کہ پاکستان ان کے ملک میں خرابی چاہتا ہے۔ پاکستان کے صدر نے کہا کہ ’غلط فہمیاں پیدا کرنے میں بعض دفعہ بیرونی ہاتھ ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے‘۔ انہوں نے پاک افغان بہتر تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ جو باتیں میری زبان سے نکلیں گی وہی میرے دل و دماغ میں بھی ہیں۔ پاکستان افغانستان کا دوست بن کر رہنا چاہتا ہے اور افغانستان کو کنٹرول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہو گا ورنہ معاملہ آگے نہیں بڑھ پائے گا‘۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ افغان طالبان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حمایت حاصل ہے لیکن انہوں نے اس کی بنیادی وجہ اسّی کی دہائی میں افغانستان اور روس کی جنگ کو قرار دیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی ذمہ داری کا پوری طرح احساس ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انتہا پسندی کا بہت زیادہ اثر ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارے علاقوں سے آپ کے علاقوں میں طالبان کو سپورٹ مل رہی ہے۔ پاکستانی حکومت قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا: ’اس سلسلے میں دونوں ملکوں کو مل کر مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن طاقت کا بے جا استعمال مسئلے کی شدت میں مزید اضافہ کرے گا اس لیے ہمیں دانشمندی اور مستقل مزاجی سے کام لینا ہو گا‘۔ صدر مسشرف کا کہنا تھا کہ ’خطے کی ترقی اس بات میں مضمر ہے کہ ہم اپنے خطے کو دنیا کے لیے کھول دیں۔ پاکستان افغانستان کو بندرگاہیں دے گا اور دنیا کے لیے راستہ دے گا‘۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے اختتامی خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف سمیت جرگے کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ جرگہ خطے میں امن کی قیام کی طرف سنگِ میل ثابت ہو گا۔ اتوار کو پاک افغان جرگے نے مشترکہ اعلامیے میں ایک چھوٹا جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو پچاس ارکان پر مشتمل ہو گا اور اس میں دونوں ممالک سے پچیس پچیس ارکان شامل ہوں گے۔ چھوٹا جرگہ مخالفین (طالبان) کے ساتھ جاری مکالمے اور اصلاح کے عمل کو تیز کرے گا۔ یہی جرگہ مشترکہ امن جرگے کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کرے گا۔ اس کے علاوہ اگلے مشترکہ امن جرگے کے لیے انتظامات اور منصوبہ بندی بھی کرے گا۔
مشترکہ امن جرگہ دونوں ملکوں کے درمیان بردرانہ تعلقات، باہمی احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور معاشی، ثقافتی اور سماجی تعلقات کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گا۔ مشترکہ امن جرگہ دونوں ملکوں میں منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ کی روک تھام کرے گا اور عالمی برادری پر زور دے گا کہ وہ افغانستان میں روزگار کے متبادل ذرائع فراہم کرنے میں مدد دے۔ افغانستان اور پاکستان عالمی برادری کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ڈھانچہ اور منصوبے تیار کریں گے۔ مشترکہ امن جرگے کی تمام سفارشات اس اعلامیے کا حصہ ہیں۔ |
اسی بارے میں جرگے میں طالبان کی عدم شرکت08 August, 2007 | پاکستان مشرف جرگے میں نہیں جائیں گے08 August, 2007 | پاکستان کابل جرگے کے سامنے کئی سوالات08 August, 2007 | آس پاس اراکین پارلیمان بھی شرکت سے منکر05 August, 2007 | پاکستان پاک افغان لویا جرگہ اگست میں04 May, 2007 | آس پاس سرحد کے آرپار پختونوں کا جرگہ 08 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||