BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 January, 2008, 19:16 GMT 00:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوہزار سات اور عالمی حالات

عراقی قیدی
دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی افواج کی موجودگی ذرائع ابلاغ کا موضوع رہی
سن دوہزار سات میں دنیا کے بیشتر ملکوں میں نہ صرف سیاسی ہلچل رہی بلکہ موسمیاتی لحاظ بھی یہ سال کافی بھیانک ثابت ہوا۔

صحرائی افریقہ سے لے کر ایشیا تک اور امریکہ سے لے کر یورپ تک بدلتے موسموں نے انسانی زندگی میں تباہ کن حالات پیدا کر کے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر یا جان ومال سے محروم کردیا۔

بعض مسلمان ملکوں کے لیے سن دو ہزار سات فائدہ مند ثابت نہیں ہوا خاص طور سے پاکستان، افغانستان، عراق، لبنان اور فلسطین کے لیے جو ہر مرتبہ تشدد کی لپیٹ میں رہے۔

سال کے آغاز میں عراق میں قیام امن کی امید پیدا ہوئی تھی مگر جب امریکی پالیسی میں ردو بدل کا اعلان ہوا تو عراق میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکی صدر جارج بش نےعراق مزید فوج بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے نئی حکمت عملی وضح کی۔

’عراق میں پیچھے ہٹنے سے اس کی حکومت مفلوج ہوگی ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا جس کے نتیجے میں ناقابل بیان ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔ ایسے حالات میں ہماری فوج کو عراق میں مزید وقت کے لیے رہنا ہوگا اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا جو انتہائی خطرناک ہے‘۔

افغانستان میں بھی حملے جاری رہے

عراق میں آئے دن ہونے والے پرُتشدد واقعات سے حالات کی سنگینی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ فروری میں صدریہ بازار میں بم دھماکے سے ایک سو تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جو سن دو ہزار تین کے بعد بد ترین واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔ مارچ میں مزاحمت کاروں نے فلوجہ اور رمادی میں زہریلی کلورین گیس سے بھرے ٹرک کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ زخمی ہوگئے ۔

صدر بش کی انتظامیہ نے تشدد کے پیش نظر مزید فوج بھیجنے کا اعلان کیا مگرڈیموکریٹس نے عراق پالیسی پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ عراق سے اپنی فوج واپس بلانے کا ٹائم ٹیبل متعین کردے۔ مطالبہ کرنے والوں میں بعض ریپبلیکن بھی شامل ہوگئے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلیکن دونوں سے وابستہ سیاست دانوں نےصدر بش کی عراق مزید فوج بھیجنے کی شدید مذمت کی جن میں ڈیموکریٹک سنیٹر جو بڈن پیش پیش رہے۔

جو بڈن نے کہا کہ ’ہم خانہ جنگی کا سامنا کر رہے ہیں، بادشاہ کے تمام گھوڑے اور اشخاص عراق کو اب متحد نہیں رکھ سکتے ہیں، وزیراعظم نوری المالکی کو سخت ترین فیصلے کرنے ہونگے‘۔

گو کہ امریکی کانگریس میں عراق پالیسی چھائی رہی پر مگر جب عراق جنگ کے اخراجات سے متعلق بل پاس کیا گیا تو اس میں فوجی انخلاء کی تاریخ متعین کرنے کا کہیں ذکر نہیں تھا۔

عالمی حدت میں اضافے کو قدرتی آفات کی وجہ بتائی گئی
ایک طرف تشدد دوسری طرف عراقی حکومت کا اندرونی بحران عوام میں مزید مایوسی کا باعث بنتا گیا۔ اگست میں سنی عرب سیاسی اتحاد عراقی کابینہ سےالگ ہوگیااور نوری ال مالکی کی حکومت کو بچانا امریکی انتظامیہ کے لیے ایک اور چلینج کی شکل میں نمودار ہوا۔

ان حالات کے برعکس عراق میں امریکی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے کانگریس کے سامنے بیان دیا کہ مزید فوج بھیجنے کی ان کی پالیسی کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہورہا ہے جس کی بدولت ہزاروں امریکی فوجیوں کو دو ہزار آٹھ میں واپس بلایا جاسکتا ہے۔

گزشتہ تیس برسوں میں پہلی بار ایران اور امریکہ کے بیچ اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوگئے۔ عراق میں امریکی سفیر راین کروکر نے اپنے ہم منصب حسن کازمی سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا جس پر مغرب کی خاصی توجہ رہی۔ایران کو اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار کرنے کی عالمی کوششیں بے کار ثابت ہوئیں حالانکہ امریکہ اس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔

افغانستان کے حالات
 افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ملک کے جنوب میں نیٹو امریکی اور افغان فوج کو طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ طالبان کو بھی ملا داد اللہ کی ہلاکت کے نتیجے میں ایک شدید دھچکے سے ہمکنار ہونا پڑا۔
یہ خبریں کافی گرم رہیں کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے مگر دسمبر میں امریکی انٹیلیجنس کی اس رپورٹ کے بعد کہ ایران نے دو ہزار تین میں اپنا جوہری پروگرام روک دیا ہے حالات نے نئی کروٹ لے لی۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اسے اپنی کامیابی جتا کرعوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے جھوٹ کا سہارا لے کر پوری دنیا کو ایران کے خلاف اکسایاہے۔

احمدی نژاد نے کہا کہ ’امریکہ نے اب واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ایران جوہری معاملے میں صحیح راستے پر ہے اور ایران نے صحیح طریقہ اختیار کیا ہے‘۔

اگرچہ امریکہ ایران کے ساتھ پس پردہ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں تھا مگر خارجی سطح پر وہ قطعاً اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتا۔

انتظامیہ کی یہ انتہائی مظبوط رائے ہے کہ ایرانی حکومت کے عزائم باعث پریشانی اور خطرناک ہیں اور عالمی برادری کو سلامتی کونسل کی اس قرارداد پر کاربند رہنا چاہے جسکے تحت ایران کو یورونیم کی افژودگی کے عمل سے روکنا ہے۔

افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ملک کے جنوب میں نیٹو امریکی اور افغان فوج کو طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ طالبان کو بھی ملا داد اللہ کی ہلاکت کے نتیجے میں ایک شدید دھچکے سے ہمکنار ہونا پڑا۔

دوہزار سات میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں خطرناک خود کش حملےہوئے۔ اغوا کی کئی وارداتیں ہوئیں۔ جنوبی کوریا کے مخیر ادارے سے وابستہ درجنوں کارکنوں کو یرغمال بنایا گیا جن میں دو کو بعد میں ہلاک کردیا گیا۔

البتہ ملک کی شمالی سرحد سے ایک چھوٹی سی اچھی خبر یہ سننے کو ملی کہ تاجکستان اور افغانستان کو ملانے والے اُس پل کو کھول دیا گیا جس کا انتظار کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے عوام بے صبری سے کر رہے تھے۔صدر حامد کرزئی نے اس پل کا افتتاح کرتے ہوئے رابطے کی افادیت بیان کی۔

مئی میں روس ترکمانستان اور کازکستان نے بحیرۂ کیسپین سے قدرتی گیس پائپ لائن بچھانے سے متعلق معاہدہ کیا جس نے امریکہ اور یوروپی ملکوں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔

سال دوہزار سات میں چین نے وسط ایشیا میں نہ صرف اپنی برتری کا خوب مظاہرہ کیا بلکہ اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کے سبھی راستے ڈھونڈ لیے چین نے افغانستان میں ایک ارب ڈالر کے برابر تانبے کی ایک بڑی کان تعمیر کرنے کا ٹھیکہ حاصل کیا جو اس مک میں سب سے بڑی غیرملکی سرمایا کاری ہے علاوہ ازیں عالمی سٹیج پر چین نے اپنی اہمیت اُس وقت واضح کردی جب اس نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ ملکی مذاکرات کی میزبانی کرکے کوریا کو متنازعہ جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ کردیا۔

امریکہ نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اسے صیح سمت میں ایک ٹھوس قدم قرار دیا۔

شمالی کوریا نے اقتصادی امداد اور بقیہ دنیا سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بدلے میں یانگبیون میں جوہری ریکٹر بند کرنے سے آمادگی ظاہر کی۔ جولائی میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے اس تنصیب کو شمالی کوریا کی جانب سے بند کرنے کی توثیق کی۔

برما کے راہبوں نے سڑکوں پر نکل کر عالمی توجہ اپنے ملک کی طرف مبذول کروائی
برما میں اس سال غیرمعمولی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے سکیورٹی فوج نے ہزاروں راہبوں کے حکومت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی بار طاقت کا استعمال کیا۔

کمبوڈیا میں خمیر روج کے دو سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر کے نسل کشی کے خلاف اس ٹربیونل کے حوالے کردیا گیا جس کی حمایت اقوام متحدہ کرتی ہے۔

نسل کشی کے خلاف ٹربیونل نے اس سال کئی اور معاملات بھی سلجھائے۔ سربیا کے کٹر قوم پرست رہنما ووجیسلاو سیسلج کو ہیگ میں جنگی جرائم سے متعلق ٹربیونل میں پیش کیا گیا البتہ انہوں نے سن پچانوے میں سربینتسا میں مسلمانوں کی مبینہ نسل کشی کے واقعات سے لاتعلقی ظاہر کی۔

سن دوہزار سات سری لنکا کے لیے بُرا سال رہا۔ تمل ٹائگر چھاپہ ماروں اور حکومت کی فوج کے درمیان سال بھر شدید لڑائی جاری رہی چھاپہ ماروں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب ان کے سیاسی بازو کے سربراہ ایس پی تامل سلون کو فوجی کارروائی کے دوران ہلاک کردیا گیا۔

بنگلہ دیش نے سال کا آغاز ہنگامی حالات کے اعلان سے کیا اور ملک کی عبوری حکومت نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کی رہنماؤں بیگم خالدہ ضیا اور شیخ حسینا کے لیے ملک واپس آنے کے تمام راستے بند کر دیے۔ اپریل میں شیخ حسینہ پر قتل کا الزام عائد کیا گیا جبکہ بیگم خالدہ ضیا کو اپنے گھر میں نظر بند ہوگئیں۔ اسی برس بھارت اور پاکستان نے اپنی آزادی کے ساٹھ برس مکمل کیے اور دونوں ملکوں نے خاصی تقریبات کا اہتمام کیا تھا۔

چین کا کردار
 سال دوہزار سات میں چین نے وسط ایشیا میں نہ صرف اپنی برتری کا خوب مظاہرہ کیا بلکہ اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کے سبھی راستے ڈھونڈ لیے چین نے افغانستان میں ایک ارب ڈالر کے برابر تانبے کی ایک بڑی کان تعمیر کرنے کا ٹھیکہ حاصل کیا جو اس مک میں سب سے بڑی غیرملکی سرمایا کاری ہے علاوہ ازیں عالمی سٹیج پر چین نے اپنی اہمیت اُس وقت واضح کردی جب اس نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ ملکی مذاکرات کی میزبانی کرکے کوریا کو متنازعہ جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ کردیا۔
فلسطین کے حالات میں اس سال بھی کچھ بہتری نہیں آئی بلکہ حماس اور فتح کے درمیان پائے جانے والی ناچاقی مزید گہری ہوگئی اور قومی اتحاد کی حکومت بننے سے رہ گئی۔ معیشت مفلوج اور باہمی کشیدگی عروج کو پہنچی غزہ شدید لڑائی کا مرکز بنا۔ حماس نے غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جبکہ محمود عباس کے زیر قیادت فتح نے غرب اردن کے رام اللہ علاقے میں متبادل انتظامیہ قائم کی۔

مغرب نے فوراً محمود عباس کی آواز پر لبیک کہااور حماس کو دہشت گرد تنظیم مان کر تنہا کردیا۔

نومبر میں مشرق وسطیٰ کے قیام امن کے عمل میں جان ڈالنے کی دوبارہ کوشش کی گئی۔صدر بش نے نومبر میں واشنگٹن میں مذکرات کی میزبانی کی اور بعد میں اعلان کیا کہ اسرائیل اور فلسطین نے سن دو ہزار آٹھ تک جامع امن معاہدہ طے پانے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

صدر بش نے کہا کہ ’اس مقصد کو پانا آسان نہیں۔ اگر یہ آسان ہوتا تو بہت پہلے اسے طے کیا گیا ہوتا۔ آزادی اور امن حاصل کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور دونوں اس معاملے میں آگے جانے کے لیے راضی ہیں‘۔

مئی میں شمالی لبنان میں اُس وقت لڑائی بھڑک اٹھی جب لبنان کی فوج نے فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مار کر مبینہ اسلامی شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کی سعی کی۔ اسکے فوراً بعد پارلیمان کے شام مخالف رہنما چلید ایدو اور دوسرے نو افراد کو ہلاک کیا گیا۔ لبنان میں سیاسی ڈیڈلاک کی وجہ سے صدارتی انتخابات نہیں ہوسکے

بلکان کے حساس معاملات پر سال دوہزار سات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی خاص طور سے کوسوو کے مستقبل پر اب بھی فیصلہ کرنا باقی ہے۔ یوروپی یونین روس اور امریکہ کے مذاکرات کاروں کے درمیان جاری بات چیت میں کوسوو کے نسلی البانیوں کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا جو آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گارڈن براؤن نے جون کے آخر میں برطانیہ کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا جب ٹونی بلیر دس سال تک اس عہدے پر رہنے کے بعد مستعفی ہوگئے، جس کی بنیادی وجہ ان کی عراق پالیسی بتائی جارہی ہے ۔

فرانس میں سارکوزی اور روس میں پوتن کو سیاسی کامیابی حاصل ہوئی
برطانیہ کے پڑوس میں فرانس نے دائیں بازو سے وابستہ رہنما نکولس سرکوزی نے صدارتی انتخابات جیت کر سیاسی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا مگر نومبر میں ٹرانسپورٹ گیس اور بجلی کے ہزاروں ملازمین نے پینشن کی کٹوتی کے خلاف ہڑتال کرکے سرکوزی کومشکل امتحان میں ڈالا حالانکہ سرکوزی نے عوام کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا ’خواتین و حضرات فرانس کو ان چلینجوں کا سامنا ہے جو اس پر دنیا نے مسلط کیے ہیں۔ ان اصلاحات کو کافی عرصے تک پس پردہ ڈالا گیا ہے۔ یہ کس کی غلطی ہے اس کو چھوڑ دیں مجھ سمیت تمام لوگوں پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اب اس کو مزید ٹالا نہیں جاسکتا اور ان اصلاحات کو شروع کرنا ہوگا‘۔

دو ہزار سات میں ماحولیات کی آلودگی اور درجہ حرارت میں اضافے کا معاملہ اہم موضوع رہا یہ معاملہ اس وقت عروج کو پہنچا جب بالی میں اس معاہدے پر مندوبین کے درمیان کئی روز تک مذاکرات ہونے کے باوجود کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دی جسکو کیوٹو پروٹوکال کا متبادل بننا تھا اس کی مدت دوہزار بارہ میں ختم ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے غریب ملکوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں قیادت کریں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس وقت دنیا حرکت میں نہیں آتی تو اسکے شدید مضمرات ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے کہا کہ امیر ملکوں کو مضر گیسوں کے اخراج میں کمی کرنی ہوگی اورغریب ملکوں میں اتنی صنعتی ترقی نہیں ہوئی کہ وہ اس کے ذمہ دار کہلائیں۔

سال دوہزار سات سیاسی اقتصادی اور مذہبی اعتبار سے کافی سرگرم رہا جس کی گونج اگلے سال بھی سنائی دے گی مگر نیا سال اپنی مٹھی میں کیا کیا سوغات لے کے آیا ہے اسکا ہم سب کو انتظار کرنا ہوگا ۔

اسی بارے میں
صدام حسین کی پہلی برسی
31 December, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد