فلسطینیوں کےلیے ’7 ارب ڈالرکاوعدہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطینی معیشت کے لیے پیرس میں ہونے والی ایک روزہ عالمی امدادی کانفرنس میں سات ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے آئندہ تین سال کے لیے پانچ عشاریہ چھ ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ فلسطینیوں کے لیے امداد کا وعدہ اڑسٹھ ممالک اور تنظیموں کی طرف سے گزشتہ ایک دہائی کے سب سے بڑے اجلاس میں کیا گیا۔ امداد کا مقصد ایک مستحکم فلسطینی ریاست کا قیام ممکن بنانا ہے۔ محمود عباس کی مخالف تنظیم حماس نے اس امدادی پیکچ کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی اور اس نے اس فیصلے کو اپنے خلاف اعلان جنگ قرار دیا تھا۔ بی بی سی کے مشرق وسطیٰ میں مدیر جیرمی براؤن نے کہا کہ اجلاس میں دو موضوعات چھائے رہے جن میں سے ایک فلسطینی انتظامیہ کے ہاتھ مضبوط پیرس کی ایک روزہ کانفرنس گزشتہ ماہ اناپلیز (میری لینڈ) میں امریکہ کی طرف سے کرائی جانے والی مشرقِ وسطیٰ کانفرنس کی کڑی ہے۔ اناپلیز میں اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی صدر محمود عباس نے سال دو ہزار آٹھ کے اختتام سے پہلے امن معاہدہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ |
اسی بارے میں مشرقِ وسطیٰ: نئے ایلچی کا تقرر29 November, 2007 | آس پاس غزہ کو تیل کی بندش پر تشویش30 October, 2007 | آس پاس ’امن کیلیےموقع کے استعمال کا وقت‘02 August, 2007 | آس پاس فلسطینی: مہینوں بعد پوری تنخواہ05 July, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||