سوچی کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کی مشہور نظر بند جمہوریت پسند رہنماء آنگ سان سوچی اور برما کے دیگر سیاسی کارکنوں کی قید اور نظر بندی کے خلاف دنیا کے بارہ مختلف شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بدھ کو نوبل انعام یافتہ خاتون رہنماء کی نظربندی کو بارہ سال ہو جائیں گے اور اس موقع پر مختلف ممالک میں چینی سفارتخانوں کے سامنے مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان مظاہروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی کی رہائی کی کنجی چین کے ہاتھ میں ہے۔ گزشتہ ماہ کے پرتشدد ہنگاموں کے بعد اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ برما کی فوجی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برمی حکام کا کہنا ہے کہ ان ہنگاموں میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن سفارتکاروں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برما کی فوجی حکومت نے سینکڑوں افراد کو نظر بند رکھا ہوا ہے۔ نوبل انعام یافتہ کی اپیل
اس موقع کی مناسبت سے چھ نوبل انعام یافتہ شخصیات نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ آنگ سان سوچی کو رہائی حاصل کرنے میں مدد دے۔ برطانوی روزنامے گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک کھلے خط میں ان شخصیات کا کہنا ہے کہ ’ اگرچہ آنگ سان سوچی کی نظربندی ایک ریاست کے جبر کی کھلی نشانی ہے تاہم یہ برما میں لوگوں کو درپیش مسائل کی صرف ایک جھلک ہے۔‘ انیس سو نوے کے انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت، نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی، کو واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن فوجی حکومت نے اقتدار ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بدھ کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی سالگرہ ہے اور منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اس مناسبت سے اقوام متحدہ پر دباؤ بڑھائیں گے کہ وہ برما کے سیاسی اسیروں کی رہائی کے لیے زیادہ کوششیں کرے۔ حالیہ مظاہروں پر قابو پانے کے بعد فوجی حکومت نے آنگ سان سوچی کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے تاہم بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولڈرج کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے لیے حکومت نے اپنی یہ شرط دہرائی ہے کہ آنگ سان سوچی برما کے خلاف پابندیاں لگانے کے حمایت نہ کریں۔ قریبی اتحادی ابراہیم گمباری کی کوششوں کا مقصد ان ممالک کو برما میں جمہوری اصلاحات کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر رضامند کرنا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ برمی حکومت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینئل گرفتھ کے مطابق ابراہیم گمباری آجکل چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ اعلیٰ سرکاری افسران سے ملاقاتیں کریں گے لیکن وہ کسی بڑے رہنماء سے نہیں ملیں گے۔ چین برما کا سب سے قریبی اتحادی ہے اور وہ ماضی میں کہہ چکا ہے کہ اسے برما کی صورتحال پر شدید تشویش ہے۔ گزشتہ ماہ کے ہنگاموں پر بھی چین نے برمی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ لیکن چین ہمیشہ سے اس بات پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔ |
اسی بارے میں امریکی ایلچی برما کے لیے روانہ 05 October, 2007 | آس پاس برما: اقوامِ متحدہ ایلچی کی ملاقاتیں30 September, 2007 | آس پاس برما: مظاہرے کم، پابندیاں زیادہ29 September, 2007 | آس پاس برما: نو ہلاکتیں، پابندیاں، مذمت27 September, 2007 | آس پاس برما پرخاموشی: بانکی مون کو لورا بش کا فون01 September, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||