BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 14:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برما: اقوامِ متحدہ ایلچی کی ملاقاتیں
’ برما کے عوام پر تشدد کی وجہ سے پوری دنیا میں غصہ پایا جاتا ہے‘
برما کے دورے پر جانے والے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ابراہیم گمباری نے رنگون میں حزب اختلاف کی زیر حراست رہنماء اونگ سن سوچی سے ملاقات کی ہے۔

اونگ سن سوچی بدستور اپنے گھر میں نظر بند ہیں لیکن ابراہیم گمباری سے ملاقات کے لیے اُنہیں حکومت کے ایک گیسٹ ہاؤس میں عارضی طور پر لایا گیا تھا۔

اس ملاقات سے قبل ابراہیم گمباری فوجی حکومت کی قیادت سے ملاقات کے لیے ملک کے نئے دارالحکومت بھی گئے۔ اقوام متحدہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ برما کی فوجی قیادت نے ملک میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو رد کرتے ہوئے اِن کے پیچھے بقول ان کے اُن شر پسند عناصر کا ہاتھ قرار دیا جن کی پشت پناہی کچھ مغربی ممالک کے سفارت خانے کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی کے دورے کا مقصد ملک کے فوجی رہنماؤں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ وہ جمہوریت نواز مظاہروں کو تشدد کے زور پر ختم کرنے کا عمل تبدیل کریں۔

ابراہیم گمباری نے فوجی حکومت کی قیادت اور آنگ سن سوچی سے ملاقات کی

ادھر ایک جاپانی صحافی کی گولی لگنے سے ہلاکت کی تفتیش کے لیے آج جاپان کے ایلچی کی برما آمد بھی متوقع ہے۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے برما کے حالات پر تشویش میں بھی خاصہ اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ برما کے عوام پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے پوری دنیا میں غصہ پایا جاتا ہے۔ امریکہ نے تمام مہذب اقوام سے برما کی فوجی حکومت پر تشدد روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر زور دیا ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ ہاوئیر سولانا نے جرمنی کے ایک اخبار کو بتایا ہے کہ برما کی حکومت کی جانب سے عوام پر تشدد جاری رہنے کی صورت میں یورپی یونین اپنے ممکنہ ردعمل پر غور کررہی ہے اور کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا، پاپائے روم نے اِس ضمن میں جاری کیے جانے والے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ وہ تمام معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اِس مسئلے کا پر امن حل نکالا جاسکے۔

یاد رہے کہ دور از قبل امریکہ نے برما میں جمہوریت پسند مظاہروں کو جبر سے کچلنے پر وہاں کی فوجی حکومت کے مزید تیس سے زیادہ اہلکاروں پر سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

برما مظاہرےبھکشو سڑکوں پر
برما: فوجی آمریت کے خلاف مظارہ جاری ہیں
برما راہبوں کا احتجاج
برما کی فوجی حکومت کے مدمقابل بدھ راہب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد