اقوامِ متحدہ کے ایلچی برما میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ابراہیم گمباری برما پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ملک کے فوجی رہنماؤں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے کہ وہ جمہوریت نواز مظاہروں کو تشدد کے زور پر ختم کرنے کا عمل تبدیل کریں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت کے سربراہ ان سے ملاقات کرنے پر راضی ہوں گے یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا ابراہیم گمباری کو حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی سے ملنے دیا جائے گا یا نہیں۔ امریکہ نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ فوجی حکام ابراہیم گمباری کے جہاز کے رنگون اترتے ہی انہیں دوسرے شہر لے گئے اور رنگون میں ٹکنے نہیں دیا جہاں سب سے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ امریکیوں کو اندیشہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ایلچی کو برمی عوام سے دور رکھا جا رہا ہے۔ سنیچر کو بھی رنگون میں نسبتاً چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تاہم ان مظاہرین کو جلد ہی منتشر کر دیا گیا۔ ادھر دنیا کی حکومتیں برما کے واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اپنے چینی ہم منصب سے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں ملاقات کی۔ چینی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت برما میں فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ تشدد سے احتراز کریں۔ انہوں نے کہا: ’ہم نے صبرو تحمل سے کام لیا ہے۔ صورتِ حال قابو میں آجائے گی اور خون خرابا ہونے سے روکا جا سکے گا، عوام معمول کی زندگی پر واپس آ سکتے ہیں اور یہی ہمارا مقصد ہے۔‘ گزشتہ روز امریکہ نے برما میں جمہوریت پسند مظاہروں کو جبر سے کچلنے پر وہاں کی فوجی حکومت کے مزید تیس سے زیادہ اہلکاروں پر سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ |
اسی بارے میں برما: عبادت گاہوں کے باہر فوج تعینات25 September, 2007 | آس پاس ہزاروں بھکشوؤں کا احتجاجی مظاہرہ24 September, 2007 | آس پاس جنتا مخالف مظاہروں میں راہبائیں23 September, 2007 | آس پاس برما پرخاموشی: بانکی مون کو لورا بش کا فون01 September, 2007 | آس پاس برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور13 January, 2007 | آس پاس سوچی:قید میں ساٹھ کی ہوگئیں19 June, 2005 | آس پاس سوچی کی مدت نظر بندی میں اضافہ27 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||