برما: عبادت گاہوں کے باہر فوج تعینات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں فوجی حکومت نے بھکشوؤں کی طرف سے مظاہروں کو دبانے کے لیے رنگوں میں چھ عبادت گاہوں کے باہر فوج تعینات کر دی ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ برما میں مسلسل آٹھ دنوں سے جاری مظاہروں کا زور توڑنے کے لیے حکومت نے چیدہ چیدہ سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق رنگون میں جمہوریت پسند رہنما یو ون نائنگ اور فلموں کے مزاحیہ ادارکار زگانار کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یو ون نائنگ نے ایک انٹرویو میں عوام سے بدھ بھکشوؤں کے مظاہروں کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔ گزشتہ روز فوجی حکومت کی طرف سے سخت کارروائی کی دھمکی کے باوجود منگل کو بھی مرکزی شہر رنگون میں ہزاروں بھکشوؤں اور شہریوں نے حکومت مخالف مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین مختلف نعرے لگا رہے تھے جن میں ’ہم مذاکرات چاہتے ہیں‘ اور ’جمہوریت جہموریت‘ کے نعرے بھی شامل تھے۔ اس سے قبل حکومت کے خلاف بدھ بھکشوؤں اور شہریوں کے بڑھتے مظاہروں کے بعد حکام نے رنگون میں گاڑیوں پر لگے لاؤڈ سپیکروں سے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ مظاہروں سے دور رہیں۔ اعلانات میں کہا گیا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ مظاہروں کی حوصلہ افزائی نہ کریں اور ان میں شرکت نہ کریں۔’جو لوگ اس پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘ منگل کو مظاہرہ شروع ہونے کے مقام پر فوج کے کئی ٹرک کھڑے تھے تاہم جلوس کے راستے میں فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی۔ عینی شاہدین نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہزاروں بھکشوؤں اور شہریوں نے شویڈاگون پگوڈا سے ریلی کا آغاز کیا اور اس کا اختتام رنگون شہر کے تجارتی مرکز کے قریب ایک پگوڈا میں ہوا۔
پگوڈا کے قریب واقع سٹی ہال کے باہر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ’ قومی مفاہمت نہایت ضروری ہے۔ بدھ بھکشو عام شہریوں کے حقوق کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔` مظاہرے میں شامل ایک بھکشو نے کہا کہ ’ لوگ فوجی حکومت کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا تھا کہ مظاروں میں پیش پیش رہنے والے بھکشو لوگوں میں برما کی آزادی کے ہیرو آنگ سان کی تصویریں تقسیم کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ وہ آنگ سان سوچی کے والد تھے جنہیں فوجی حکومت نے انکے گھر پر نظر بند کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل پیر کو ملک کے پچیس شہروں میں مظاہرے ہوئے اور رنگون میں مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد کم از کم تیس ہزار تھی، جبکہ اتوار کو رنگون میں ہونے والے مارچ میں تقریباً بیس ہزار بدھ بھکشوؤں نے مارچ کیا تھا جو گزشتہ بیس سالوں میں سب سے بڑا مارچ تھا۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے صدر جارج بُش برما کی فوجی حکومت کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ صدر بش نئی پابندیوں کا اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کریں گے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیلز کے مطابق امریکہ کو امید ہے کہ وہ دیگر ممالک کی حوصلہ افزائی کر سکے گا کہ کہ یہ ممالک بھی برما میں مظاہرین کی حمایت کریں۔ وائٹ ہاؤس کا مذکورہ بیان برما میں آٹھ روز سے جاری مظاہروں کے بعد آیا ہے۔ اب ان حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت بدھ بھکشو کر رہے ہیں۔ برما میں بھکشوؤں کو مقدس تصور کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کارروائی ملک میں بڑی ہلچل پیدا کر سکتی ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق اندیشہ ہے کہ کہیں 1988 کے حالات نہ دہرائے جائیں جب جمہوریت کے لیے کی جانے والی بغاوت کو کچلنے کے لیے فوجی کارروائی میں تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔ سنیچر کو بھکشوؤں نے جمہوریت حامی رہنما آنگ سان سوچی کی حمایت میں مارچ کیا جو اپنے گھر میں نظر بند ہیں لیکن اتوار کو ان کے گھر تک لوگوں کی رسائی بھی بند کر دی گئی۔ اس احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظیم الائنس آف آل برمیز بدھ مونکس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مظاہرے میں شامل ہوں ۔ جمعہ کو ایک بیان میں بھکشوؤں کے گروپ نے عہد کیا کہ وہ اس وقت تک اپنا مارچ جاری رکھیں گے جب تک ملک سے فوجی آمریت ختم نہیں ہو جاتی۔ بھکشوؤں کا احتجاج گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں دوگنی کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد شروع ہوا جو برما جیسے غریب ملک کے عوام کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ ابتدا میں جمہوریت حامی کارکنوں نے اس احتجاج کو چلایا لیکن ایسے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پانچ ستمبر کو ایک پر امن ریلی میں حکومت کی جانب سے طاقت کا استعمال کرنے پربھکشوؤں نے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ | اسی بارے میں ہزاروں بھکشوؤں کا احتجاجی مظاہرہ24 September, 2007 | آس پاس برما: بدھ راہبوں کا احتجاجی مارچ20 September, 2007 | آس پاس برما پرخاموشی: بانکی مون کو لورا بش کا فون01 September, 2007 | آس پاس جنتا مخالف مظاہروں میں راہبائیں23 September, 2007 | آس پاس برمی باغی: بھارتی قید میں 8 سال13 February, 2006 | آس پاس برما میں پانچ ہزار مزید قیدی رہا02 January, 2005 | آس پاس برما کے اہم سیاسی رہنما کی رہائی20 November, 2004 | آس پاس سُوچی بھوک ہڑتال پر نہیں06 September, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||