برما پرخاموشی: بانکی مون کو لورا بش کا فون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خاتونِ اول لورا بش نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون پر زور دیا ہے کہ وہ برما میں جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف کارروائی کی مذمت کریں۔ صدر بش کی اہلیہ عام طور پر اس قسم کی سیاسی سرگرمیوں سے پرے ہی رہتی ہیں لیکن برما کے حالات پر ان کا بیان مبصرین کے نزدیک قدرے حیرت کا باعث ہے۔ لورا بش نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ تشدد میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے عمل کرے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بِیل نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ امریکی خاتونِ اول کا یہ بیان برما کی صورتِ حال پر اقوامِ متحدہ کے دبے دبے ردِ عمل پر وائٹ ہاؤس میں پائی جانے والی بے چینی کا عکاس ہے۔ صدر جارج بش پہلے ہی مطالبہ کر چکے ہیں کہ برما میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور برما کی حکومت ڈرانے اوردھماکے کے عمل کو ترک کرے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ لورا بش نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ٹیلی فون کیا تھا جس میں انہوں نے برما کی صورتِ حال پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ لورا بش نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر ممالک برما کی صورتِ حال پر خاموشی اختیار کر کے گویا وہاں کے حالات پر در گزر کر رہے ہیں۔ امریکی خاتونِ اول نے برما کے سیاسی مستقبل میں خاصی دلچسی ظاہر کی ہے، وہاں کے منحرف افراد سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اور برما کے مستقبل پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مذاکرے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزادی کی جدوجہد میں برما کے لوگوں کی حمایت کریں۔ | اسی بارے میں اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس صدر کا خطاب اورعا لمی دلچسپی23 January, 2007 | آس پاس غیر مقبول عالمی طاقتیں و رہنماء28 June, 2007 | آس پاس کوسوو کو آزادی دی جائے: بش10 June, 2007 | آس پاس یوروگوئے:صدربش کے خلاف مظاہرہ10 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||