برما: مظاہرے کم، پابندیاں زیادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے برما میں جمہوریت پسند مظاہروں کو جبر سے کچلنے پر وہاں کی فوجی حکومت کے مزید تیس سے زیادہ اہلکاروں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ادھر جاپان نے کہا ہے کہ برما کے سابق دارالحکومت رنگون میں مظاہروں کے دوران ایک جاپانی فوٹو گرافر کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد وہ برما کے امدادی پروگرام پر نظرِ ثانی کرے گا۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندے ابراہیم گمباری مذاکرات کے لیے برما جا رہے ہیں جہاں گزشتہ چند روز کے مظاہروں کے بعد بظاہر فوجی حکام مزید احتجاج کو محدود کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ گزشتہ روز حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے والوں کی تعداد کافی کم رہی اور زیادہ مظاہرے نہیں ہوئے۔ ہفتۂ رواں کے دوران ہونے والے ان مظاہروں میں ایک جاپانی فوٹو گرافر سمیت نو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ حکومت نے کلیدی خانقاہوں کو مقفل کر دیا ہے تاکہ بھکشو، مظاہروں میں شریک نہ ہو سکیں۔ اطلاعات کے مطابق انٹرنیٹ کی سہولت بھی بند کر دی گئی ہے جسے جمہوریت پسند افراد دنیا کو خبریں اور تصویریں بھیجنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ ادھر برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے برما کے فوجی حکام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے: ’میں برما کے عوام کے خلاف اس شرمناک تشدد کی مذمت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ قطعی نا قابلِ قبول ہے اور میں سینسر شپ کی پابندیوں کی بھی مذمت کرتا ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ برما میں جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوا ہے جتنا کہ بتایا گیا ہے۔ گورڈن براؤن نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے نمائندے کی برما سے واپسی پر سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر ایک اجلاس منعقد کرنا چاہیے۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ اقوامِ متحدہ کے نمائندے کو برما میں اپنے دورے میں تحریکِ جمہوریت کی نظر بند رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کرنے دی جائے۔ گزشتہ روز صدر جارج بش نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے برما میں جمہوریت کی طرف منتقلی میں مدد فراہم کرے۔ صدر جارج بش نے کہا کہ تمام ممالک کو برما کی فوجی حکومت پر زور دینا چاہئے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے تشدد کا استعمال نہ کرے۔ صدر بش نے کہا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ برما کے عوام آزادی حاصل کرنے کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور امریکی لوگ ان بہادر لوگوں کا ساتھ دیں گے۔ |
اسی بارے میں برما: عبادت گاہوں کے باہر فوج تعینات25 September, 2007 | آس پاس ہزاروں بھکشوؤں کا احتجاجی مظاہرہ24 September, 2007 | آس پاس جنتا مخالف مظاہروں میں راہبائیں23 September, 2007 | آس پاس برما پرخاموشی: بانکی مون کو لورا بش کا فون01 September, 2007 | آس پاس برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور13 January, 2007 | آس پاس سوچی:قید میں ساٹھ کی ہوگئیں19 June, 2005 | آس پاس سوچی کی مدت نظر بندی میں اضافہ27 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||