BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 03:07 GMT 08:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برما: مظاہرے کم، پابندیاں زیادہ
جاپان اپنے ایک نائب وزیرِ خارجہ کو جاپان بھیج رہا ہے جہاں مظاہروں کے دوران جاپانی فوٹو گرافر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا
امریکہ نے برما میں جمہوریت پسند مظاہروں کو جبر سے کچلنے پر وہاں کی فوجی حکومت کے مزید تیس سے زیادہ اہلکاروں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ادھر جاپان نے کہا ہے کہ برما کے سابق دارالحکومت رنگون میں مظاہروں کے دوران ایک جاپانی فوٹو گرافر کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد وہ برما کے امدادی پروگرام پر نظرِ ثانی کرے گا۔

اقوامِ متحدہ کے نمائندے ابراہیم گمباری مذاکرات کے لیے برما جا رہے ہیں جہاں گزشتہ چند روز کے مظاہروں کے بعد بظاہر فوجی حکام مزید احتجاج کو محدود کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

گزشتہ روز حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے والوں کی تعداد کافی کم رہی اور زیادہ مظاہرے نہیں ہوئے۔ ہفتۂ رواں کے دوران ہونے والے ان مظاہروں میں ایک جاپانی فوٹو گرافر سمیت نو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت نے کلیدی خانقاہوں کو مقفل کر دیا ہے تاکہ بھکشو، مظاہروں میں شریک نہ ہو سکیں۔ اطلاعات کے مطابق انٹرنیٹ کی سہولت بھی بند کر دی گئی ہے جسے جمہوریت پسند افراد دنیا کو خبریں اور تصویریں بھیجنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے برما کے فوجی حکام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے: ’میں برما کے عوام کے خلاف اس شرمناک تشدد کی مذمت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ قطعی نا قابلِ قبول ہے اور میں سینسر شپ کی پابندیوں کی بھی مذمت کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ برما میں جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوا ہے جتنا کہ بتایا گیا ہے۔ گورڈن براؤن نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے نمائندے کی برما سے واپسی پر سلامتی کونسل کو باضابطہ طور پر ایک اجلاس منعقد کرنا چاہیے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ اقوامِ متحدہ کے نمائندے کو برما میں اپنے دورے میں تحریکِ جمہوریت کی نظر بند رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کرنے دی جائے۔

گزشتہ روز صدر جارج بش نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے برما میں جمہوریت کی طرف منتقلی میں مدد فراہم کرے۔

صدر جارج بش نے کہا کہ تمام ممالک کو برما کی فوجی حکومت پر زور دینا چاہئے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے تشدد کا استعمال نہ کرے۔

صدر بش نے کہا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ برما کے عوام آزادی حاصل کرنے کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور امریکی لوگ ان بہادر لوگوں کا ساتھ دیں گے۔

برما مظاہرےبھکشو سڑکوں پر
برما: فوجی آمریت کے خلاف مظارہ جاری ہیں
برما راہبوں کا احتجاج
برما کی فوجی حکومت کے مدمقابل بدھ راہب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد