برما: نو ہلاکتیں، پابندیاں، مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سکیورٹی افواج کے ہاتھوں نو افراد کی ہلاکت کے بعد عالمی سطح پر برما کی فوجی حکومت کی مذمت جاری ہے۔ البتہ ابھی تک چین کی طرف سے جو برما کا حلیف ہے، برما کی حکومت پر براہِ راست تنقید نہیں کی گئی۔ البتہ امریکہ نے برما کے فوجی حکمرانوں کے خلاف مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ صدر جارج بش نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے برما میں جمہوریت کی طرف منتقلی میں مدد فراہم کرے۔ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق برما میں حکومت مخالف مظاہروں میں رنگون میں فوج نے مظاہرین پر گولی چلائی جس سے آٹھ شہری اور ایک جاپانی فوٹو گرافر ہلاک ہوگیا۔ دارالحکومت میں صورتِ حال ابھی تک کشیدہ ہے۔ صدر جارج بش نے کہا ہے کہ تمام ممالک کو برما کی فوجی حکومت پر زور دینا چاہئے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے تشدد کا استعمال نہ کرے۔ صدر بش نے کہا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ برما کے عوام آزادی حاصل کرنے کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور امریکی لوگ ان بہادر لوگوں کا ساتھ دیں گے۔
امریکی صدر نے ان ممالک کو مخاطب کیا جن کے برما کی فوجی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اور ان پر زور دیا کہ وہ بھی برما کے عوام کا ساتھ دیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پیرینو نے صدر بش کا بیان پڑھتے ہوئے کہا: ’میں ان تمام ممالک پر زور دیتا ہوں جو برما کے حکام پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں، کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر برما کے عوام کی خواہشات کی حمایت کریں اور برما کی فوجی حکومت کو کہیں کہ وہ اپنے لوگوں کے خلاف تشدد نہ کریں، وہ لوگ جو پر امن طریقے سے تبدیلی کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔‘ بیان کے مطابق صدر بش نے یہ بھی کہا کہ فوجی حکومت نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس نے کم از کم نو مظاہرین کو ہلاک اور کئی کو زخمی کر دیا ہے اور کئی لوگ گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ ادھر امریکی وزارت خزانہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ برما کی حکومت کے چودہ حکام کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرے گی، جن میں ملک کے قائم مقام وزیر اعظم اور وزیر دفاع شامل ہیں۔ اس سے پہلے صدر بش نے برما پر سفری اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام افراد کے جو بھی اثاثے امریکی حلقۂ اختیار میں ہیں، انہیں منجمد کر دیا جائے گا۔ امریکی شہریوں کو بھی ان افراد کے ساتھ تجارت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
ادھر برما کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ابرہیم گمباری سے ملاقات کے لیے تیار ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزراء خارجہ نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ آسیان کے ترجمان، سنگاپور کے وزیر خارجہ جارج یو کا کہنا تھا: ’انہوں نے برما کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے ساتھ پوری طرح تعاون کریں اور مل کر کام کریں۔ ایک غیرجانب دار ثالث کی حیثیت سے۔ مسٹر گمباری کا کردار اس خطرناک صورتحال کو ختم کرنے میں مدد دے گا۔ وزراء نے برما کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انہیں تمام پارٹیز سے ملاقات کا موقع دے، جیسا کہ وہ پہلے بھی کر چکے ہیں۔‘ مسٹر یو نے یہ بھی کہا کہ آسیان کے تمام وزرا نے برما میں مظاہرین کے خلاف حکومت کے تشدد کی مذمت کی ہے۔ گزشتہ روز بھی برما کے داراحکومت شہر رنگون میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکلے تھے جن پر عینی شاہدین کے مطابق فوج نے کئی مرتبہ فائرنگ کی۔ گزشتہ روز عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے بدھ بھِکشوؤں کے چھ مراکز پر چھاپے مارے، کھڑکیاں دروازے توڑے دیے اور وہاں سوئے ہوئے بھکشوؤں کو مارا پیٹا۔ اطلاعات ہیں کہ رنگون میں دو مراکز پر چھاپوں کے دوران کم و بیش دو سو بھکشوؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ جمعرات کو جب رنگون میں رات کے وقفے کے بعد پھر مظاہرے شروع ہوئے تو ہجوم میں چند ہی بھکشو نظر آئے۔ اس موقع پر مظاہرین قومی گیت گا رہے تھے۔ |
اسی بارے میں برما: عبادت گاہوں کے باہر فوج تعینات25 September, 2007 | آس پاس ہزاروں بھکشوؤں کا احتجاجی مظاہرہ24 September, 2007 | آس پاس جنتا مخالف مظاہروں میں راہبائیں23 September, 2007 | آس پاس برما پرخاموشی: بانکی مون کو لورا بش کا فون01 September, 2007 | آس پاس برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور13 January, 2007 | آس پاس سوچی:قید میں ساٹھ کی ہوگئیں19 June, 2005 | آس پاس سوچی کی مدت نظر بندی میں اضافہ27 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||