عراق :عام معافی کے قانون پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی حکومت نے اس مجوزہ قانون کی حمایت کی ہے جسے اگر پارلیمنٹ نے منظور کرلیا تو عراقی جیلوں میں قید لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو رہا کیا جا سکے گا۔ عراق میں نور المالکی کی حکومت نے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کرتی ہے جس کے ان تمام لوگوں کو معافی دی جائے جن کو چھوٹے جرائم کے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔ عراقی میں پچاس ہزار لوگ جیلوں میں بند ہیں جن میں چھبیس ہزار امریکی فوج کی جیلوں میں بند ہیں جبکہ چوبیس ہزار عراقی جیلوں میں پابند صلاصل ہیں۔ اگر عام معافی کا یہ قانون منظور ہو گیا تو ایسے تمام قیدی کو رہا کیا جا سکے گا جن پر ابھی تک فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔ عراق میں امریکی فوج میں اضافے کے بعد عراق میں تشدد کی کارروائیوں میں واضح کمی آئی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عراق میں روزانہ ایک سو ہلاکتیں گھٹ کر بیس رہ گئی ہیں۔ امریکی فوج میں اضافے کے بعد عراق میں قیدیوں کی تعداد میں لاتعداد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور بعض اوقات کسی محلے کی پوری آبادی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ عام معافی کے قانون کی تیاری میں کئے ہفتے صرف کیےگئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ عام معافی کا یہ قانون عراق میں شیعہ سنی اتحاد قائم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ عراق کے سنی رہنماء اپنے علاقوں سے حراست میں لیے گئے نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ایوان بالا کےلیے34 ار کان کا تقرر11 December, 2005 | آس پاس ڈک چینی عراق کے دورے پر 18 December, 2005 | آس پاس قندھار: دو ہلاک، چھ زخمی04 December, 2005 | آس پاس ہلاکتوں پرطالبان کی مذمت 20 October, 2005 | آس پاس ہلمند: نو افغان پولیس اہلکار ہلاک 22 October, 2005 | آس پاس ’امریکی غلطی‘: چار افغان ہلاک 07 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||