BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 December, 2007, 03:19 GMT 08:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی رضامندی سے کردوں پر حملہ‘
ترک فوجی
عراق سے متصل پہاڑی علاقوں میں ترکی نے تقریباً ایک لاکھ مسلح فوج تعینات کر رکھی ہے۔
ترکی کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ کی رضامندی سے عراق میں کرد ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ ترکی کےاعلیٰ ترین جرنل یاسر بیوکنت نے کہا کہ امریکہ نے شمالی عراق کی فضائی حدود کارروائی کے لیے خالی کر دی تھیں۔

عراق میں امریکی سفارتخانے کہا ہے کہ انہیں اس کارروائی کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کی منظوری نہیں دی۔

عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے بغداد میں ترکی کے سفیر کو بتایا دیا تھا کہ فضائی حملہ ناقابل قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں طے ہو چکا تھا کہ اس طرح کی کوئی بھی کارروائی عراقی حکومت یا وہاں تعینات بین الاقوامی فوج کے ساتھ مِل کر طے کی جائے گی۔

ہوشیار زبیری نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق ترکی نے کارروائی کے بارے میں بہت دیر سے بتایا اور جن دیہات کو نشانہ بنایا گیا وہاں کرد باغی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق مزید ترک کارروائی کے خلاف ہے اور اس سے خطے کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

مزید کارروائی نہیں
ترکی نے کارروائی کے بارے میں بہت دیر سے بتایا اور جن دیہات کو نشانہ بنایا گیا وہاں کرد باغی موجود نہیں۔ عراق مزید ترک کارروائی کے خلاف ہے اور اس سے خطے کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
ہوشیار زبیری
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیپ اردگان نے فضائی کارروائی کو کامیاب قرار دیا۔

اس سے قبل ترکی کے کئی لڑاکا طیاروں نے شمالی عراق میں مشتبہ کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔ ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ طیاروں نے سرحد کے آس پاس’کردستان ورکرز پارٹی‘ کے کار کنان کو نشانہ بنایا ہے۔ ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے میں پچاس طیارے استعمال ہوئے۔

شمالی عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ بمباری کئی دیہی علاقوں میں کی گئی ہے۔

خبروں کے مطابق حملے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی ہیں لیکن اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم سیمل سسیک نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ’ انتہا پسندوں‘ پر مزید حملوں کا امکان ہے۔ ترکی کی انتولیہ نیوز ایجنسی سے بات چیت میں انہوں نے کہا ’ہماری حکومت کا عہد ہے کہ اس مشکل کو ملک کے ایجنڈے ہی سے ختم کردیا جائے۔‘

مسٹر سیمل نے کرد عسکریت پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر اپنے گھر واپس آجائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی لڑائی سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔

ترکی شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے کارکنان کو نشانا بناتا رہا ہے لیکن یہ پہلی بار ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے سرحد پار پرواز کرکے بمباری کی ہو۔ اس سے پہلے ہیلی کاپٹر یا فوجیوں نے کئی بار حملے کیے ہیں۔

ترکی کے فوجی ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زیپ، ہکرک، اوسن اور قاندل پہاڑیوں کے علاقے میں طیاروں نے کارروائی کی ہے۔

ترکی کی پارلیمان نے کردوں کے خلاف فوج کو کارروائی کرنےکا اختیار دیا ہے

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس کارروائی کا مقصد انتہا پسندوں کو نشانہ بنانا تھا اور یہ شمالی عراق میں رہنے والے باشندوں یا ان لوگوں کے خلاف نہیں تھی جو باغیانہ کارروائیوں میں شامل نہیں ہیں۔‘

لیکن عراق میں مقامی حکام کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد کئی لوگ علاقہ چھوڑ کر جانے لگے ہیں۔

ترکی اور کردستان پارٹی کے درمیان اختلافات کوئی نئی چیز نہیں ہیں لیکن حال میں باغیوں نے ترکی کے اندر ایک حملہ کیا تھا جس کے بعد سے حکومت نے سخت رخ اپنا لیا ہے۔ اکتوبر میں ترکی کی پارلمیان نے فوج کو اختیارت دیے تھے کہ وہ کرد باغیوں سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرے۔

عراق سے متصل پہاڑی علاقوں میں ترکی نے تقریباً ایک لاکھ مسلح فوج تعینات کر رکھی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً تیس ہزار کردستان ورکرز پارٹی کے ارکان نے عراق میں پناہ لے رکھی ہے۔ ترکی علاقے کے کردوں پر ان کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد