ترکی: سرحد پار آپریشن کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترک حکومت عراقی علاقے میں موجود علیحدگی پسند کردوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے پارلیمان کی منظوری کی منتظر ہے۔ علیحدگی پسند کردوں کی جانب سے حالیہ چند دنوں کے دوران مختلف حملوں میں پندرہ ترک فوجیوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم طیب اردگان پر اس قسم کی کارروائی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ منگل کو بھی طیب اردگان نے اعلٰی حکام کے ایک اجلاس میں علیحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف سخت اقدامات پر غور کیا جن میں شمالی عراق میں فوجی آپریشن بھی شامل تھا۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق’ اس حوالے سے تمام اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے جس میں ضرورت پڑنے پر سرحد پار آپریشن بھی شامل ہے‘۔ تاہم عراق کا کہنا ہے کہ ان باغیوں سے نمٹنے کا بہترین طریقہ اس سکیورٹی معاہدے پر عملدرآمد ہے جو ترکی اور عراق کے درمیان گزشتہ ماہ ہوا ہے جبکہ امریکہ نے بھی ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ شمالی عراق میں کارروائی سے باز رہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے ایک بیان میں کہا کہ’ اگر ایسا مسئلہ ہے تو اسے مل جل کر حل کرنا چاہیے اور میں نہیں سمجھتا کہ یکطرفہ کارروائی اس مسئلے کو حل کرنے کا صحیح طریقہ ہے‘۔ امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ترکی میں ان حملوں کی ممکنہ ذمہ دار علیحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی سے نمٹنے کے لیے ترکی اور عراق کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے پرعزم ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراقی اور امریکی حکومت کو خدشہ ہے کہ شمالی عراق میں ترک کارروائی سے عدم استحام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں عراق: نیا امریکی فوجی آپریشن14 August, 2007 | آس پاس ترکی: انتخابات، فوج کی وارننگ28 April, 2007 | آس پاس ترکی: عبداللہ گل صدر منتخب28 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||