عراق: نیا امریکی فوجی آپریشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے عراق میں شیعہ اور سنی مزاحمت کارروں سے نبٹنے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔ آپریشن ’فینٹم اسٹرائک‘ جو پورے ملک میں شروع کیا گیا ہے القاعدہ اور ایران سے تعلق رکھنے والے مزاحمت کارروں کے خلاف کی جا رہی ہے۔ امریکی فوج نے یہ آپریشن ایک ایسے وقت شروع کیا ہے جب وزیر اعظم نوری المالکی نے عراقی رہنماؤں کو ہنگامی مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ نوری المالکی عراق میں سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے کے مختلف سیاسی دھڑوں پر مذاکرات کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے جب کے بعض نمائندے کابینہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے ہیں۔ کابینہ کی سترہ نشستیں خالی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی کا مقصد بغداد اور گردونواح میں شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی حالیہ کامیابیوں کو مستحکم کرنا ہے۔ لیفٹینٹ جرنل رے اڈیرنو نے کہا کہ اس کارروائی سے عراق میں القاعدہ اور ایران سے تعلق رکھنے والے شدت پسند عناضر پر مزید دباؤ ڈالا جائے گا۔ عراق میں امریکی فوجی حکام ایران پر مسلسل عراقی مزاحمت کارروں کی معاونت کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ امریکی حکام اس آپریشن کی سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر تفصیلات بتانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ آپریشن شروع کیئے جانے سے ایک دن قبل صدر سٹی میں پانچ مزاحمت کار ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے تھے۔ کردستان سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر رہنما مسعود بارزانی سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے بغداد پہنچ گئے ہیں۔ مسعود بارزانی سنی رہنماؤں کو یا تو حکومت میں دوبارہ شامل ہوجانے یا پھر حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کریں گے۔ | اسی بارے میں بہتری کا دارومدار انخلاء پر: ایران09 August, 2007 | آس پاس عراق: اقوام متحدہ کی نئی قرارداد10 August, 2007 | آس پاس عراق بم دھماکہ گورنر ہلاک11 August, 2007 | آس پاس نئی قرارداد سے سیاسی ڈیڈ لاک ٹوٹےگا؟11 August, 2007 | آس پاس آٹھ اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں12 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||