نئی قرارداد سے سیاسی ڈیڈ لاک ٹوٹےگا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پندرہ ممبران کے قرارداد نمبر1770 کی منظوری کے حق میں ہاتھ بلند کیے اور عراق میں اقوامِ متحدہ کے سیاسی کردار اور عملے میں اضافے کی قراردار متفقہ طور پر منظور ہوگئی۔ اگرچہ اس قرارداد کے نتیجے میں جنگ سے متاثرہ ملک میں اقوامِ متحدہ کے عملے میں صرف تیس ارکان کا اضافہ ہوگا اور یہ تعداد پینسٹھ سے بڑھ کر پچانوے ہو جائےگی، تاہم یہ ایک ایسے ادارے کی جانب سے ایک چھوٹا لیکن اہم علامتی قدم ہے جس نے چار برس قبل بغداد میں اپنے ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد عملے کے چھ سو ارکان عراق سے واپس بلا لیے تھے۔ نئی قرار داد کے تحت امریکی اور برطانوی مدد کے ساتھ اقوامِ متحدہ قومی افہام وتفہیم، سرحدی صورتحال اور مہاجرین جیسے معاملات پر مذاکرات کی ترویج کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنے کی مجاز ہوگی۔ اقوامِ متحدہ علاقے میں بین الاقوامی سرحدوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات سمیت ان تمام معاملات میں مدد دے گی جن کا حل ڈھونڈنے میں امریکہ تاحال ناکام رہا ہے۔ عراقیوں نے بھی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اب گیند ان کے کورٹ میں ہے۔ اقوامِ متحدہ میں عراق کے سفیر حامد البیاتی کا کہنا ہے’ ہم ابتداء سے ہی عراق میں اقوامِ متحدہ کا ایک اہم کردار چاہتے تھے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ ہم اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ موجودہ مشکلات سے نمٹنا دراصل عراقی حکومت اور عوام کا کام ہے۔ لیکن جہاں ہم اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ یہ ایک قومی ذمہ داری ہے وہیں ہم یہ مقصد اقوامِ متحدہ کی سربراہی میں عالمی برادری کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے‘۔ عراق میں اقوامِ متحدہ کے بہتر کردار کی قرارداد پر ووٹنگ میں ایک دن کی تاخیر بھی ہوئی جس کی وجہ عراقیوں کو قرارداد کے مسودے کا دوبارہ جائزہ لینے کا وقت فراہم کرنا تھا۔ قرارداد کا جائزہ شدہ مسودہ عراق کی خودمختاری اور انسانی حقوق ہر زیادہ مرتکز ہے۔ کچھ عرصے سے امریکہ اقوامِ متحدہ پر زور دے رہا تھا کہ وہ عراقی سیاست کے ڈیڈ لاک کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے رویے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے اور کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ اقوامِ متحدہ پر عراق میں امریکی ناکامی کی ذمہ داری ڈالنی چاہتی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد عراقی حکومت اور اس کے عوام کے لیے بین الاقوامی حمایت کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگرچہ عالمی برادری میں عراق کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ سب عراق کے مستقبل کے حوالے سے ہمارے خیالات سے متفق ہیں‘۔ قرارداد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ یہ قرارداد ہی وہ چیز ہو جو عراق میں ترقی اور سیاسی ڈیڈ لاک توڑنے اور امریکہ سے بات نہ کرنے پر مُصر سیاسی دھڑوں کو ساتھ ملانے کے لیے درکار ہے۔ یاد رہے کہ قرارداد کے تحت اقوامِ متحدہ کو عراق میں کسی قسم کی فوجی یا حفاظتی ذمہ داریاں نہیں سونپی جائیں گی اور یہ کام امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے ذمہ ہی رہے گا۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے ملازمین کی یونین نے اپیل کی ہے کہ اقوامِ متحدہ نہ صرف اپنے ملازمین کو عراق نہ بھیجے بلکہ وہاں تعینات عملے کو بھی واپس بلا لیا جائے۔ جبکہ امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکہ عراق میں اقوامِ متحدہ کے عملے کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ |
اسی بارے میں عراق: اقوام متحدہ کی نئی قرارداد10 August, 2007 | آس پاس بہتری کا دارومدار انخلاء پر: ایران09 August, 2007 | آس پاس عراقی حکومت کو شدید دھچکا07 August, 2007 | آس پاس سنی وزراء استعفے واپس لیں: مالکی05 August, 2007 | آس پاس اقوامِ متحدہ: وسیع تر کردار پر قرارداد02 August, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||