سنی وزراء استعفے واپس لیں: مالکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے دھڑے کے تین وزراء کے استعفے منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سنی اتحاد ’عراقی اکارڈنس فرنٹ‘ کے چھ وزراء نے گزشتہ ہفتے نوری المالکی کی شیعہ حکومت سے یہ کہہ کر استعفی دے دیا تھا کہ حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہے جن میں شیعہ مسلح گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ نورالمالکی نے ان وزراء کے استعفے مسترد کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ تعاون اور اتحاد کے جذبے کے تحت اپنے عہدوں پر واپس آ جائیں۔ نوالمالکی نے عراقی صدر جلال طالبانی اور نائب صدر عادل عبدالمہدی سے بھی اس سلسلے میں مذاکرات کئے ہیں اور اس سلسلے میں اگلے چند دنوں میں مزید مذاکرات ہونے کی توقع ہے۔ تاہم مستعفی ہونے والے وزراء نے کہا ہے کہ وہ کسی طور پر اپنے استعفے پیش کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے۔ | اسی بارے میں خوشیاں مناتےعراقی حملوں کےشکار26 July, 2007 | آس پاس فوج کو آلات کی فراہمی میں تاخیر27 July, 2007 | آس پاس عراق: انسانی بحران بد سے بدتر30 July, 2007 | آس پاس ابو غریب: احوال بتانے والے پر کیا گزری05 August, 2007 | آس پاس روضۂ عسکری پر حملہ کرنیوالا ہلاک05 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||