روضۂ عسکری پر حملہ کرنیوالا ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے اس رکن کو ہلاک کر دیا ہے جنہوں نے روضۂ عسکری پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے بعد ملک میں فرقہ وارنہ فسادات شروع ہو گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حیسم البدری سن دو ہزار چھ اور سات میں سامراء میں ہونے والے حملوں میں ملوث تھے جن میں روضۂ عسکری کے دو میناروں کو اڑا دیا گیا تھا۔ سامراء میں امام علی الہادی سمیت شیعہ فرقے کے دو اماموں کے مزار ہیں جن کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے زائرین آتے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ البدری عراق کے صوبے صلاح الدین میں القاعدہ کے رہنماء ہیں۔ حکام کے مطابق البدری جمعرات کو سامراء میں امریکی فوج کی ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق عراقی حکومت نے ہمیشہ البدری کو فروری دو ہزار چھ میں ہونے والے دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جو بہت سے لوگوں کی نظر میں فرقہ وارانہ تشدد اہم موڑ تھے۔ اسی دوران بغداد میں ایک مارٹر حملے میں کم سے کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملے ایک پٹرول سٹیشن پر ہوئے جہاں لوگ تیل کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ ایک قریبی پٹرول سٹیشن پر بھی مارٹر کا حملہ ہوا جس میں چھ لوگ زخمی ہوئے۔ عراق میں تیل کی کمی کی وجہ سے عراقیوں کو گھنٹوں قطار میں کھڑے ہونا پڑتا ہے جہاں وہ حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ | اسی بارے میں روضۂ عسکری پر حملہ، مینار تباہ13 June, 2007 | آس پاس فرقہ وارانہ تشدد روکنے کا عزم04 March, 2007 | آس پاس فرقہ وارانہ تشدد میں دو سو ہلاک23 November, 2006 | آس پاس فرقہ واریت: نور المالکی کا انتباہ20 August, 2006 | آس پاس عراق:فرقہ وارانہ تشدد، دس ہلاک11 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||