BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روضۂ عسکری پر حملہ، مینار تباہ
روضۂ عسکری پر سن 2006 میں بھی حملہ کیا گیا تھا
عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ سامراء میں شدت پسندوں نے روضۂ عسکری کے دو میناروں کو اڑا دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے ہونے والے بم دھماکوں کے بعد دونوں مینار مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

بدھ کو حملے کے بعد سامراء کے علاوہ بغداد میں بھی کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

سامراء میں امام علی الہادی سمیت شیعہ فرقے کے دو اماموں کے مزار ہیں جن کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے زائرین یہاں آتے ہیں۔

اس جگہ پر اہلِ تشیع کے دسویں اور گیارہویں اماموں کی نشانیاں موجود ہیں۔ امام علی الہادی سن 868 میں جبکہ ان کے بیٹے حسن العسکری کا انتقال سن 874 میں ہوا۔ امام الہادی کو برصغیر میں امام نقی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سن 2006 میں روضۂ عسکری کے گنبد پرہونے والی بمباری کے بعد سے فرقہ وارارنہ فسادات بھڑک اٹھے جس کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد تشدد میں اضافے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

شیعہ املاک سے متعلق فاؤنڈیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میناروں کو ’دہشت گردوں‘ نے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ شیخ صالح الحیدری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:’یہ ایک دہشت گرد حملہ ہے جس کا مقصد فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا ہے۔‘

سامراء سنی مزاحمت کاروں کا مرکز رہا ہے

حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے ان حملوں کو عراق کے لیے ایک بری خبر قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق دھماکوں کے بعد مزار پر جمع ہونے والے شیعہ فرقے کے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی۔

سامراء میں فوری طور پر کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ فوجی دستوں اور پولیس کو فوری طور پر سامراء پہنچنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ نجف اور اہم شیعہ زیارتوں کے اطراف میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا ہے۔

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے امریکی فوج کو سامراء شہر کے مضافات میں اضافی فوجی دستے بھیجنے اور بغداد میں فوج کو ہائی الرٹ پر رہنے کے احکامات جاری کرنے کو کہا ہے تاکہ فرقہ وارانہ تشدد میں کسی ممکنہ اضافے کو کنٹرول کیا جا سکے۔

دوسری طرف مقتدی الصدر نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ اس نے مقبروں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ مقتدی الصدر نے لوگوں سے پرامن مظاہرے کی اپیل کی ہے تاکہ اس بات کا اظہار کیا جائے کہ عراق کا اصل دشمن صرف قبضہ ہے اور اس لیے ہر شخص کو عراق سے غیرملکی فوجی کے انخلاء کا مطالبہ کرنا ہوگا۔

گزشتہ سال فروری میں ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں روضۂ کے سہنری گبند کو نقصان پہنچا تھا

بغداد کے تقریبا سو کلو میٹر شمال میں سامراء شہر امریکی فوج اورعراق کی شیعہ انتظامیہ کے خلاف مزاحمت کاروں کا بنیادی مرکز رہا ہے۔

دنیا بھر میں بسنے والے اہل تشیع کے نزدیک روضۂ عسکری کو اہم روحانی مقام حاصل ہے جہاں لاکھوں افراد زیارت کے لیے آتے ہیں۔

گزشتہ سال فروری میں ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں روضۂ کے سہنری گبند کو نقصان پہنچا تھا اور وہ مکمل تباہ ہو گیا تھا جبکہ اس کے دونوں مینار اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ یہ حملہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سنی مزاحمت کارروں کی کارروائی ہے جس میں سے بعض کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سن 2003 میں ایک حملے میں سامراء میں سنیوں کی مرکزی ’سامراء مسجد‘ کی چھت پر تعمیر تاریخی مینار کو نقصان پہنچا تھا۔

صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
شیوخ پر انحصار
عراق سے امریکی واپسی کی تدبیر
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
حدیثہ’عراقی جان اہم نہیں‘
’امریکیوں کیلیے عراقیوں کا قتل معمول کی بات‘
ہجرت پر مجبور
ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ہجرت پر مجبور
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد