BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابو غریب: احوال بتانے والے پر کیا گزری

جو ڈاربی
حکومت نے جو ڈاربی کے اقدام کی تعریف کی تھی
وہ امریکی فوجی جس نے پہلی مرتبہ عراق کی ابو غریب جیل میں امریکیوں کے ہاتھوں قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں اپنے افسران کو بتایا تھا اسے اس وقت سے نہایت عجیب طریقے سے نشانہ بنایا جانے لگا جب سے اس کا نام وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کھلے بندوں لے لیا۔

جو ڈاربی نے جب ابو غریب میں قید عراقیوں کے ساتھ زیادتیوں کی تصاویر دیکھیں تو وہ ششدر رہ گئے تھے۔

وہ تصویریں دیکھ کر اس قدر پریشان ہوئے کہ سخت گرمی کی رات میں بغداد کی سڑکوں پر سگریٹ پھونکتے رہے اور یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتے رہے کہ اب انہیں کیا کرنا چاہیے۔

ان تصاویر پر جنہیں دنیا دو ہزار چار میں دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی، جو ڈاربی کی نظراس وقت اتفاقاً پڑ گئی تھی جب وہ ایک ریزرو فوجی کی حیثیت سے ابو غریب میں تعینات کُل وقتی فوجیوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

ان تصاویر میں جو لوگ عراقی قیدیوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ان میں ان کے ساتھ کام کرنے والے وہ مرد اور خواتین بھی تھے جنہیں وہ سکول کے دنوں سے جانتے تھے۔

اس موقع پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے انہوں نے تصاویر کو دوسروں کو دکھانے کا جو فیصلہ کیا اس نے ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔

News image
 مجھے معلوم تھا کہ کہ میں نے جو کیا کئی لوگ اس سے متفق نہیں ہوں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ نہیں سوچتے کہ یہ غلط ہے یا درست۔ وہ بس یہی کہتے ہیں کہ میں نے عراقیوں کی وجہ سے اپنے امریکی فوجیوں کو جیل بھجوا دیا۔

فوج کے محکمہ پولیس کے ساتھ منسلک رہنے والے جو ڈاربی کو ذہنی کشمکش کے ان دنوں کی باتیں کرنے کی اجازت ابھی حال ہی میں ملی ہے۔ بی بی سی کے ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں جو ڈاربی نے مائیکل بوریک کو بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیسے کیا تھا اور یہ کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے کتنے پریشان ہیں۔

اذیتوں کی تصاویر
جو ڈاربی کو جب پہلی مرتبہ ایک سی ڈی پر محفوظ یہ تصاویر دی گئیں تو انہیں عراق میں تعینات ہوئے سات ماہ ہو چکے تھے۔ یہ سی ڈی انہیں ایک ساتھی چارلس گرینر نے دی تھی۔

سی ڈی پر محفوظ زیادہ تر تصاویر بغداد اور ہلہ کے شہروں کی تھیں تاہم ان میں قیدیوں کے ساتھ زیادتیوں کی بدنام زمانہ تصویریں بھی تھیں۔

شروع شروع میں تو جو ڈاربی کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کی کہ جو وہ دیکھ رہے ہیں وہ سچ ہے۔

’میں پہلی تصویر دیکھ کر ہنس پڑا اور سوچا کہ یہ تو محض کچھ برہنہ لوگوں کا مینار سا بنا ہوا ہے۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ برہنہ لوگ عراقی قیدی تھے۔‘

’میں نے سوچا فوجی اس قسم کی احمقانہ حرکتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن جوں جوں میں مزید تصویریں دیکھتا گیا تو مجھے محسوس ہونے لگا کہ یہ تصویریں اصل میں کیا ہیں۔‘

’ان میں میرے ساتھی چارلس گرینر کی تصویریں تھیں جن میں وہ تین قیدیوں کو پِیٹ رہا تھا۔اگلی تصویر ایک برہنہ عراقی مرد کی تھی جس کا چہرہ بوری سے ڈھکا ہوا تھا اور اس سے اگلی تصویر میں ایک عراقی مرد اپنے گھٹنوں پر کھڑا تھا اور اس کے چہرہ پر بھی ریت والی بوری بندھی ہوئی تھی۔‘

News image
 سی ڈی پر محفوظ زیادہ تر تصاویر بغداد اور ہلہ کے شہروں کی تھیں تاہم ان میں قیدیوں کے ساتھ زیادتیوں کی بدنام زمانہ تصویریں بھی تھیں۔

’ ان تصویروں میں جس خاتون کی تصویریں سب سے زیادہ واضح تھیں وہ لِنڈی انگلینڈ تھی اور وہ قیدیوں کے گلے میں رسی باندھے انہیں کھینچ رہی تھی۔ وہ برہنہ قیدیوں کے انبار کے پیچھے گرینر کے ساتھ کھڑی انگوٹھا دکھا کر فتح کا اظہار کر رہی تھی۔ ایک اور تصویر میں وہ ایک عراقی قیدی کے ساتھ کھڑی تھی جو مر چکا تھا۔‘

صیغہ راز میں رکھنے کا وعدہ

جو ڈاربی کو معلوم ہوگیا تھا کہ جو کچھ انہوں نے تصویروں میں دیکھا وہ غلط تھا لیکن یہ تصویریں آگے کسی کو دینے کا فیصلہ کرنے میں انہیں تین ہفتے لگ گئے۔ اور جب آخر کار انہوں نے تصویریں دے دیں تو ان سے وعدہ کیا گیا کہ ان کا نام راز میں رہے گا۔

اس وعدے کے باوجود انہیں تصویروں میں نظر آنے والے فوجیوں سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ ’مجھے خطرہ تھا کہ وہ اس کا بدلہ لیں گے، نہ صرف وہ بلکہ دوسرے فوجی بھی۔‘

’میں جب رات کو سوتا تو ان سے صرف سوگز کے فاصلے پر ہوتا تھا، اور میں جس کمرے میں سویا کرتا تھا اس کا دروازہ بھی نہیں تھا۔‘

 سماعت کے دوران وہ سارا وقت مجھے نفرت بھری نظروں سے گُھورتا رہا ہے۔ میں جتنی دیر بھی وہاں رہا، اس نے مجھ سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایسی نفرت ہے جو گرینر اس دن تک نہیں بھولے گا جب تک کہ وہ قید سے رہا نہیں ہو جاتا

’ میں نے دروازے کی جگہ ایک برساتی کوٹ لٹکا رکھا تھا۔ چونکہ میں دروازے کے بالکل قریب سو رہا ہوتا تھا، وہ دھیرے سے آ کر میرا گلا بھی کاٹ دیتے تو کسی کو خبر نہ ہوتی۔ مجھے خوف محسوس ہو رہا تھا۔‘

آخر کار جب مذکورہ فوجیوں کو ابو غریب سے ہٹا دیا گیا تو جو ڈاربی نے سوچا کہ ان کی مصیبت ختم ہو گئی ہے۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ جب وہ سینکڑوں فوجیوں کے ساتھ عراق میں ایک چائے خانے میں بیٹھے ہوئے تھے تو امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ ٹی وی پر آئے اور جو ڈاربی کا نام لیکر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تصویریں آگے پہنچائیں۔

اس بارے میں جو ڈاربی کا کہنا تھا: ’ میرا خیال نہیں کہ یہ محض اتفاق تھا۔ اس قسم کے موقعوں پر جو کچھ کہا جاتا ہے وہ زیادہ تر پہلے سے طے ہوتا ہے۔‘

’لیکن مجھے وزیردفاع کی طرف سے ایک خط بھی ملا جس میں کہا گیا تھا کہ میرا نام لینے میں کوئی بند نیتی شامل نہیں تھی، وہ محض میری تعریف کرنا چاہ رہے تھے اور یہ کہ انہیں اس بات کی کوئی خبر نہیں تھی کہ مجھ سے نام راز میں رکھے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔‘

’مجھے اس بات پر یقین نہیں آتا کہ امریکہ کے وزیر دفاع کو یہ نہیں معلوم تھا کہ کسی بھی جرم کی تفتیش میں مرکزی گواہ کا نام ظاہر نہیں کیا جاتا۔‘

وزیردفاع کے خط میں کہا گیا تھا کہ میرا نام لینے میں کوئی بند نیتی شامل نہیں تھی: جو ڈاربی

عراق میں ان کے فوجی ساتھی ان کے خلاف نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اس بات پر انہیں مبارکباد دی۔ اصل مسئلہ تو امریکہ میں پیدا ہوا۔

غداری کا خطاب
ان کی اہلیہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ابو غریب کی بدنام زمانہ تصاویر جو ڈاربی نے حکام کے حوالے کی تھیں، لیکن جب ان کے شوہر کا نام منظر عام پر آیا تو انہیں اپنی بہن کے گھر جا کر پناہ لینا پڑی۔ ان کے اپنے گھر کی دیواروں پر لوگوں نے ان کے خلاف نعرے لکھ دیے تھے اور اپنے قصبے میں کئی لوگوں نے انہیں غدار کا کہنا شروع کر دیا۔

اس بارے میں جو ڈاربی کا کہنا تھا: ’ مجھے معلوم تھا کہ کہ میں نے جو کیا کئی لوگ اس سے متفق نہیں ہوں گے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ نہیں سوچتے کہ یہ غلط ہے یا درست۔ وہ بس یہی کہتے ہیں کہ میں نے عراقیوں کی وجہ سے اپنے امریکی فوجیوں کو جیل بھجوا دیا۔‘

اپنے قصبے میں ان کے خلاف پائی جانے والی مخالفت کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اب بھی وہاں نہیں جا سکتے۔

جب ڈونلڈ رمزفیلڈ نے ان کے راز سے پردہ اٹھا دیا تو انہیں فوراً عراق سے نکال لیا گیا اور اگلے چھ ماہ تک انہیں مسلح محافظوں کی حفاظت میں رکھا گیا۔

اس کے بعد سے جو ڈاربی فوج چھوڑ چکے ہیں تاہم وہ قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے چند مجرموں کی سماعت کے دوران گواہی دے چکے ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ ڈر چارلس گرینر سے لگتا ہے۔

’سماعت کے دوران وہ سارا وقت مجھے نفرت بھری نظروں سے گُھورتا رہا ہے۔ میں جتنی دیر بھی وہاں رہا، اس نے مجھ سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایسی نفرت ہے جو گرینر اس دن تک نہیں بھولے گا جب تک کہ وہ قید سے رہا نہیں ہو جاتا۔‘

ڈاربی اور ان کا خاندان ایک نئے قصبے میں جا بسے ہیں۔ وہ ملازمت بھی نئی جگہوں پر کر رہے ہیں۔ وہ اپنی شناخت بدلنے کے علاوہ سب کچھ کر چکے ہیں۔

اس سب کے باوجود جو ڈاربی خود کو نہ تو ہیرو کہتے ہیں اور نہ ہی کوئی غدار۔ محض ’ایک فوجی، نہ اس سے زیادہ نہ کم۔‘

’میں نے کبھی ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ میں نے عراق میں تصویریں متعلقہ لوگوں کے حوالے کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ غلط تھا۔‘

امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
اذیت ناک زندگی
عراق کے امریکی ملازمین کا المیہ
بوب وُڈورڈ مزاحمت کوخفیہ رکھا
بش انتظامیہ کی عراق پالیسی کوخفیہ رکھا گیا
ابوغریبابوغریب، مزید تشدد
ابوغریب پر امریکی مؤقف چیلنج کر دیا گیا
امریکی فوجیامریکی: ایک اورالزام
ویب پر فحش تصاویر کی عراقیوں کی لاشیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد