BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 July, 2007, 01:25 GMT 06:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خوشیاں مناتےعراقی حملوں کےشکار
عراق میں فٹبال کے شائقین
عراق کے ہر فرقے کے لوگ مل کر خوشیاں منا رہے تھے
عراق میں دو بم دھماکوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اور ایک سو پینتیس زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب عراقی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں فٹ بال کے میچ میں عراقی ٹیم کی جیت پر جشن منا رہے تھے

عراقی ٹیم جنوبی کوریا کو ہرا کر ایشیائی کپ کے فائنل میں پہنچ گئی ۔ بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پوری قوم کے لیے یہ خوشی کا ایسا موقع تھا جس میں ہر نسل اور عقیدے کی تفریق مٹ گئی تھی۔

جس وقت بم دھماکے ہوئے قومی پرچم ہاتھوں میں لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے اور منصور نامی محلے کی گلیاں خوشی کے نعروں سے گونج رہی تھیں۔

ضلع منصور میں ہونے والے پہلے حملے میں تیس افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے حملے میں بیس افراد جاں بحق ہوئے۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اپنے دوستوں کے ساتھ کار میں تھا اور چاروں سمت لوگ خوشیاں منا رہے تھے اور نعرے لگاج رہے تھے کہ اچانک ایک بڑا دھماکہ ہوا اور ہر طرف آگ نظر آنے لگی‘۔

ایک گھنٹے بعد ہی مشرقی علاقے غدیر میں ایک فوجی چیک پوائنٹ کے نزدیک ایک مشتبہ خود کش بمبار نے درجنوں کاروں کے درمیان دھماکہ کیا ۔

بی بی سی کے نامہ نگار نکلس وچل کا کہنا ہے کہ جس طرح عراق کی فٹبال ٹیم میں شیعہ سنی اور کرد مل کر کھیل رہے ہیں اسی طرح عراق کے ہر فرقے کے لوگ مل کر خوشیاں منا رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد