خوشیاں مناتےعراقی حملوں کےشکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں دو بم دھماکوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اور ایک سو پینتیس زخمی ہوگئے۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب عراقی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں فٹ بال کے میچ میں عراقی ٹیم کی جیت پر جشن منا رہے تھے عراقی ٹیم جنوبی کوریا کو ہرا کر ایشیائی کپ کے فائنل میں پہنچ گئی ۔ بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پوری قوم کے لیے یہ خوشی کا ایسا موقع تھا جس میں ہر نسل اور عقیدے کی تفریق مٹ گئی تھی۔ جس وقت بم دھماکے ہوئے قومی پرچم ہاتھوں میں لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے اور منصور نامی محلے کی گلیاں خوشی کے نعروں سے گونج رہی تھیں۔ ضلع منصور میں ہونے والے پہلے حملے میں تیس افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے حملے میں بیس افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اپنے دوستوں کے ساتھ کار میں تھا اور چاروں سمت لوگ خوشیاں منا رہے تھے اور نعرے لگاج رہے تھے کہ اچانک ایک بڑا دھماکہ ہوا اور ہر طرف آگ نظر آنے لگی‘۔ ایک گھنٹے بعد ہی مشرقی علاقے غدیر میں ایک فوجی چیک پوائنٹ کے نزدیک ایک مشتبہ خود کش بمبار نے درجنوں کاروں کے درمیان دھماکہ کیا ۔ بی بی سی کے نامہ نگار نکلس وچل کا کہنا ہے کہ جس طرح عراق کی فٹبال ٹیم میں شیعہ سنی اور کرد مل کر کھیل رہے ہیں اسی طرح عراق کے ہر فرقے کے لوگ مل کر خوشیاں منا رہے تھے۔ | اسی بارے میں عراق ایشیاء کپ کے سیمی فائنل میں22 July, 2007 | کھیل 13 ایتھلیٹس کی لاشیں برآمد17 June, 2007 | آس پاس بغداد کار دھماکہ، سترہ باراتی ہلاک 06 July, 2007 | آس پاس بغداد: سڑکوں پر لاشوں میں اضافہ05 July, 2007 | آس پاس بغداد مارٹر حملہ، تین ہلاک11 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||