بغداد: سڑکوں پر لاشوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس کےمسلسل حفاظتی اقدامات کے باوجود بغداد میں غیر شناخت شدہ لاشوں کی تعداد فروری کے مہینے میں زیادہ رہی۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ جون میں 540 ایسی لاشیں پائی گئیں جن کے اعضاء کٹے ہوئےتھے یا ان پر تشدد کے اثرات موجود تھے۔ تاہم یہ تعداد 2006 کے مقابلے میں کافی کم ہے جوماہانہ کئی بار ہزار سے تجاوز کرگئی تھی۔ اس سے قبل سنی اور شیعہ فرقوں کے مابین جاری فسادات روکنے کے لیے بغداد میں تقریباً 30000 ہزار امریکی فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا جس سے قبل فروری اور اپریل کے درمیان امریکی افواج کے گشتی دوروں کے بڑھنے کے بعد ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں قابلِ ذکر کمی واقع ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں امریکی افواج نے بھی دعوٰی کیا ہے کہ اس سال کے آغاز میں شہری ہلاکتوں میں واضح کمی ہوئی لیکن گذشتہ دو مہینوں میں بغداد کی سڑکوں پر پائی جانے والی لاشوں کی تعداد میں سرعت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے جو عراقی پولیس کے مطابق بیس لاشیں یومیہ ہے۔ تاہم بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت کے اعدادوشمار غیر جانبدارانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں اور کئی ہلاکتوں کے کوائف درج نہیں کیے جا سکے۔ اس ضمن میں بی بی سی کے نمائندے مائک سرجنٹ کا کہنا ہے کہ شہر کی سڑکوں پر لاشوں کا جا بجا پایا جانا نہایت افسوس ناک امر ہے۔ | اسی بارے میں بغداد بس اڈے پر دھماکہ، بیس ہلاک28 June, 2007 | آس پاس بغداد: خودکش حملہ، 75ہلاک19 June, 2007 | آس پاس بغداد ابھی بھی کنٹرول سے باہر05 June, 2007 | آس پاس بغداد: شیعہ سنی علاقے کے بیچ دیوار20 April, 2007 | آس پاس سویلین ہلاکتوں میں اضافہ: عراق01 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||