بغداد: شیعہ سنی علاقے کے بیچ دیوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجیوں نے عراقی دارالحکومت بغداد میں شیعہ اور سنی اکثریتی علاقوں کے درمیان ایک دیوار کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ پانچ کلومیٹر لمبی یہ دیوار شیعہ آبادی میں گھرے ہوئے سنی اکثریت کے علاقے ادہامیہ کے گرد تعمیر کی جا رہی ہے۔ ادہامیہ کا علاقہ دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور یہاں فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ امریکی ترجمان کے مطابق اس دیوار کی تعمیر کا مقصد’ شہر میں جاری فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پانا ہے‘۔ امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل کرسٹوفر گریور کے مطابق وہ دیوار کی تعمیر کے باوجود’ بغداد کو چھوٹی چھوٹی فصیلوں والے شہر میں تقسیم نہیں کرنا چاہتے‘۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق دیوار کی تعمیر پر مقامی آبادی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور لوگ اسے عراقیوں کو تقسیم کرنے کا منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ دیوار اس ماہ کے آخر تک مکمل ہو جائے گی اور اس کے بعد عراقی شہری اس بارہ فٹ اونچی دیوار کو ان مقررہ داخلی راستوں سے ہی عبور کر سکیں گے جن پر امریکی اور عراقی فوجی پہرہ دیں گے۔امریکی فوج بغداد میں اس قسم کی دو اور دیواریں بھی تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ | اسی بارے میں بغداد: بم دھماکے، دو سو تک ہلاک18 April, 2007 | آس پاس بغداد، چھ دھماکوں میں 160 ہلاک 18 April, 2007 | آس پاس ’حکومت سے علیحدگی کااعلان‘16 April, 2007 | آس پاس عراق: اختلافات شدید، تشدد جاری15 April, 2007 | آس پاس بغداد کے بازارمیں دھماکہ 35 ہلاک15 April, 2007 | آس پاس کربلا: کار بم حملے میں 47 افراد ہلاک14 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||