بغداد: بم دھماکے، دو سو تک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں بدھ کو چھ مختلف دھماکوں میں دو سو افراد کی ہلاکتوں کے بعد صدریہ کے علاقے میں سکیورٹی کے ذمہ دار عراقی فوجی کمانڈر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے صدریہ میں واقع ایک مارکیٹ میں ہونے والے کار بم دھماکے میں ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مجموعی طور پر ان بدھ کو چھ مختلف دھماکوں میں دو سو افراد ہلاک اور دو سو کے زخمی ہو گئے تھے۔ عراق وزیر اعظم نورالمالکی کی طرف سے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی گئی ہے اور انہیں ’شیطان کے فوجیوں‘ کا کام قرار دیا ہے۔ یہ دھماکے وزیر اعظم کے اس اعلان کے فوراً بعد ہوئے ہیں جس میں انہوں نے عراق کی سکیورٹی کی ذمہ داریایوں کا اس سال کے آخری تک عراقی فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دو ماہ قبل امریکہ کی طرف سے تشدد کو ختم کرنے کے لیے شروع کی جانے والی مہم کے دوران یہ سب زیادہ اندوہناک واقعات تھے۔
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ حملے ہولناک تھے لیکن شدت پسندوں کو حفاظتی انتظامات بہتر کرنے کی مہم کو ناکام کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سب سے بڑا اور تباہ کن دھماکہ ایک مصروف بازار میں ہوا جس میں ایک سو چالیس افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقے میں واقع صدریہ مارکیٹ میں ہوا جسے اس سال فروری میں ہونے والے دھماکے کےبعد دوبارہ تعمیرکیا جا رہا ہے۔ اسی مارکیٹ میں فروری میں ہونے والے دھماکے میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ صدریہ مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے سے قبل ایک پولیس چوکی پر خود کش کار بم دھماکےمیں تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ خبر رساں ایجحنسی رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ | اسی بارے میں پارلیمنٹ پرحملہ ہم نے کیا: القاعدہ13 April, 2007 | آس پاس بغداد کے بازارمیں دھماکہ 35 ہلاک15 April, 2007 | آس پاس عراق: اختلافات شدید، تشدد جاری15 April, 2007 | آس پاس ’حکومت سے علیحدگی کااعلان‘16 April, 2007 | آس پاس چالیس لاکھ عراقی بے گھر: اقوام متحدہ18 April, 2007 | آس پاس ہرماہ 50 ہزارعراقی ملک چھوڑ رہے ہیں17 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||