BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد: بم دھماکے، دو سو تک ہلاک
 عراق
بغداد کے علاقے صدریہ میں اس سے پہلے بھی خوفناک دھماکے ہو چکے ہیں
عراق کے دارالحکومت بغداد میں بدھ کو چھ مختلف دھماکوں میں دو سو افراد کی ہلاکتوں کے بعد صدریہ کے علاقے میں سکیورٹی کے ذمہ دار عراقی فوجی کمانڈر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے صدریہ میں واقع ایک مارکیٹ میں ہونے والے کار بم دھماکے میں ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مجموعی طور پر ان بدھ کو چھ مختلف دھماکوں میں دو سو افراد ہلاک اور دو سو کے زخمی ہو گئے تھے۔

عراق وزیر اعظم نورالمالکی کی طرف سے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی گئی ہے اور انہیں ’شیطان کے فوجیوں‘ کا کام قرار دیا ہے۔

یہ دھماکے وزیر اعظم کے اس اعلان کے فوراً بعد ہوئے ہیں جس میں انہوں نے عراق کی سکیورٹی کی ذمہ داریایوں کا اس سال کے آخری تک عراقی فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دو ماہ قبل امریکہ کی طرف سے تشدد کو ختم کرنے کے لیے شروع کی جانے والی مہم کے دوران یہ سب زیادہ اندوہناک واقعات تھے۔

زندہ جل گئے
 میں نے درجنوں لاشیں دیکھیں۔ کچھ لوگ بسوں کے اندر زندہ جل گئے۔ ان تک کوئی نہیں پہنچ سکا، ہر طرف انسانی جسم کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے، گلیاں خون کے تالاب کی مانند ہو گئی تھیں
عینی شاہد

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ حملے ہولناک تھے لیکن شدت پسندوں کو حفاظتی انتظامات بہتر کرنے کی مہم کو ناکام کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

سب سے بڑا اور تباہ کن دھماکہ ایک مصروف بازار میں ہوا جس میں ایک سو چالیس افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقے میں واقع صدریہ مارکیٹ میں ہوا جسے اس سال فروری میں ہونے والے دھماکے کےبعد دوبارہ تعمیرکیا جا رہا ہے۔ اسی مارکیٹ میں فروری میں ہونے والے دھماکے میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

صدریہ مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے سے قبل ایک پولیس چوکی پر خود کش کار بم دھماکےمیں تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

خبر رساں ایجحنسی رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ
’میں نے درجنوں لاشیں دیکھیں۔ کچھ لوگ بسوں کے اندر زندہ جل گئے۔ ان تک کوئی نہیں پہنچ سکا‘۔ ’ہر طرف انسانی جسم کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’گلیاں خون کے تالاب کی مانند ہو گئی تھیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد