40لاکھ عراقی بےگھر: اقوام متحدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سربراہ نے عراق کے پڑوسی ممالک سے عراقی پناہ گزینوں پر دروازے بند نہ کرنے کی اپیل کی ہے اور انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ عراق میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امداد میں اضافہ کریں۔ بان کی مون نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی پناہ گزینوں کی مشکلات کا اجاگر کیا جن کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا انہیں بھول چکی ہے۔
اقوام متحدہ چاہتا ہے کہ شام اور اردن کی مدد کی جائے جہاں بیس لاکھ عراقی پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہ یورپی یونین اور امریکہ سے چاہتا ہے کہ وہ زیادہ عراقیوں کو پناہ دیں۔ اقوام متحدہ کے اندازہ کے مطابق ہر ماہ پچاس ہزار لوگ عراق چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اس وقت چالیس لاکھ کے قریب عراقی گھر چھوڑ چکے ہیں جن میں انیس لاکھ اپنے ملک میں ہی بے گھر ہیں۔ بان کی مون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کسی کی زبردستی عراق واپسی پر زور نہ دیں جو اس وقت تشدد کی زد میں ہے اور جہاں ہر روز درجنوں لوگ مارے جا رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کی طرف سے بلائے گئے اس اجلاس میں ساٹھ ممالک سے آئے ہوئے حکام شرکت کر رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر نے کہا کہ عالمی برادری نے عراقی پناہ گزینوں کے مسئلے پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے چالیس لاکھ عراقی ملک کے اندر اور باہر انتہائی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے عراقی عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہے ہیں جن کے پاس پہلے ہی محدود وسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں پناہ گزینوں کا مسئلہ انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام سے فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کے بعد انسانوں کا اپنے ملک سے سب سے بڑا انخلاء ہے۔ عالمی سطح پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ پر ان لوگوں کی مدد کرنے کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے ایک ایسی جنگ شروع کی جس سے ہزاروں اموات واقع ہوئیں، خوف و بد حالی پھیلی اور لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ | اسی بارے میں ہرماہ 50 ہزار عراقیوں کی نقل مکانی 09 January, 2007 | آس پاس عراقی پناہ گزینوں پر’دروازے بند‘22 January, 2007 | آس پاس عراق میں تشدد صدام دور سے زیادہ21 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||