عراق: اختلافات شدید، تشدد جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر سے تعلق رکھنے والے حکام کا کہنا ہے کہ وہ مخلوط حکومت سے اپنے وزیروں کو پیر کو نکال لینے کا ارادہ کر رہے ہیں تاکہ امریکی فوجوں کے عراق سے انخلاء کے لیے ایک ٹائم ٹیبل کے اپنے مطالبے کو آگے بڑھا سکیں۔ فی الوقت عراقی کابینہ میں مقتدیٰ الصدر کی تنظیم کے چھ وزیر شامل ہیں۔ وہ پہلے عارضی طور پر اس وقت حکومت سے علیحدہ ہو گئے تھے جب وزیر اعظم نوری المالکی اور بُش انتظامیہ کے درمیان قریبی تعلقات جاری رہنے کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا تھا۔
دریں اثنا پولیس کے مطابق بغداد میں گزشتہ روز دن بھر تشدد کے مختلف واقعات میں ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک اور کم سے کم ایک سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شہر کے ایک مصروف بازار کے قریب شیعہ آبادی والے ایک علاقے میں دو بم دھماکےہوئے جس کے بعد شہر کے مختلف حِصّوں میں دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ انہیں شہر کی گلیوں سے ایسے افراد کی تیس لاشیں ملی ہیں جو بظاہر فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ کا کہنا ہے کہ بغداد کے لیے سکیورٹی کا نیا منصوبہ جسے تین ماہ پہلے بہت زورو شور سے متعارف کروایا گیا تھا کچھ ابتدائی کامیابیوں کے بعد تشدد روکنے میں ناکام رہا ہے۔ دریں اثناء برطانوی فوج کے دو ہیلی کاپٹر فضا میں ٹکرانےسے اس کے عملے کے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں سے ایک روز قبل شیعہ برادری کے مقدس شہر کربلا کے ایک پر ہجوم بازار میں ایک خود کش بم دھماکہ ہوا تھا بتایا جاتا ہے کہ اس حملے درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بغداد میں حالیہ ہفتوں میں کار اور خود کش بم دھماکے معمول بن گئے ہیں۔ | اسی بارے میں سویلین ہلاکتوں میں اضافہ: عراق01 April, 2007 | آس پاس کربلا: کار بم حملے میں 47 افراد ہلاک14 April, 2007 | آس پاس ٹرک بم دھماکوں میں 50 ہلاک27 March, 2007 | آس پاس عراقی پارلیمان پر حملے کی مذمت13 April, 2007 | آس پاس تین امریکیوں سمیت سترہ ہلاک10 April, 2007 | آس پاس چودہ عراقی، عورت بمبار کا نشانہ11 April, 2007 | آس پاس محمودیہ دھماکے میں اٹھارہ ہلاک08 April, 2007 | آس پاس خود کش حملہ، بم دھماکے، نو ہلاک31 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||